سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 437 سکیمیں ، 340 سے زائد منصوبے منظور ہو چکے ، پنجاب حکومت مکمل شفافیت، قانونی تقاضوں کے مطابق امور چلا رہی ہے،مریم اورنگزیب

"پنجاب حکومت مکمل شفافیت، قانونی تقاضوں اور مقررہ ایس او پیز کے مطابق حکومتی امور چلا رہی ہے اور اچھی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔” — مریم اورنگزیب

لاہور۔27جون (اے پی پی):سینئر صوبائی وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت مکمل شفافیت، قانونی تقاضوں اور ایس او پیز کے مطابق حکومتی امور چلا رہی ہے ۔وہ ہفتہ کے روز پنجاب اسمبلی میں خطاب کر رہی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 437 مکمل اسکیمیں جبکہ 340 سے زائد منصوبے منظور ہو چکے ہیں اور 30 جون تک تمام منظوریوں کا عمل مکمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی منصوبہ چند منٹوں میں منظور نہیں ہوتا بلکہ مکمل ادارہ جاتی اور قانونی پراسس سے گزر کر عوامی فلاح و بہبود کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ محرم الحرام اور یوم عاشور کے دوران پنجاب میں مثالی انتظامات کیے گئے جنہیں سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ 50 ہزار سے زائد کیمروں، کیو آر کوڈڈ لنک بٹن سسٹم، فول پروف سکیورٹی انتظامات، نیاز اور واٹر سپرنکلنگ سمیت ایک لاکھ سے زائد پولیس اہلکاروں، پاک فوج اور رینجرز نے اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے اپنی علالت کے باوجود تمام انتظامات کی خود نگرانی کی اور تمام مکاتب فکر کی جانب سے ان اقدامات کو سراہا گیا۔سینئر وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت نے گزشتہ ڈھائی برس کے دوران ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبے میں تاریخی اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ ماحولیات کے ترقیاتی بجٹ کا تقریبا ً100 فیصد، جنگلات کے بجٹ کا 94 فیصد اور فشریز کے بجٹ کا 97 فیصد استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ اے ڈی پی کے تحت 98 فیصد فنڈز بروئے کار لائے جا رہے ہیں جو ایک تاریخی ریکارڈ ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے سموگ میٹیگیشن کا پہلا جامع پلان متعارف کرایا جبکہ ایک ایسے محکمہ ماحولیات کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا جسکے پاس ماضی میں بنیادی وسائل بھی موجود نہیں تھے۔ آج پنجاب کے تمام اضلاع میں ایک ہزار سے زائد جدید تکنیکی اور ملٹی سیکٹورل منصوبے جاری ہیں۔ پنجاب کلائمیٹ واچ کے تحت 7,089 مقامات کی کیو آر کوڈڈ میپنگ مکمل کی جا چکی ہے جبکہ 13 ہزار سے زائد جدید مانیٹرنگ سسٹمز لائیو لوکیشن کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ 10 ہزار سے زائد پائرولائسز اور فیٹ میلٹنگ یونٹس کی نگرانی کی جا رہی ہے جبکہ 60 ہزار سے زائد ہیلتھ انسپکٹرز ڈیٹا اکٹھا کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اے کیو پنجاب ایپ، ڈیجیٹل کمپلائنس سسٹم، انڈسٹریل زوننگ سسٹم اور جدید مانیٹرنگ میکانزم فعال ہیں۔ پنجاب میں دو ہزار الیکٹرک بسیں متعارف کروائی جا رہی ہیں ای وہیکلز پر 99 فیصد تک ٹوکن اور رجسٹریشن فیس میں رعایت دی گئی ہے۔ زرعی شعبے میں سپر سیڈرز کی تعداد تین سو سے بڑھا کر 8ہزار کی گئی جبکہ 65 فیصد سبسڈی پر 8 ہزار سے زائد سپر سیڈرز کھیتوں میں کام کر رہے ہیں تاکہ فصلوں کی باقیات جلانے کے رجحان کا خاتمہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 11 جدید ماحولیاتی لیبارٹریاں قائم کی گئی ہیں جبکہ کسانوں کے لیے 30 ارب روپے کا زرعی میکانائزیشن پروگرام جاری ہے۔ انہوں نے سابقہ حکومت کے بلین ٹری سونامی منصوبے کو تاریخی فراڈ قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت جنگلات کے شعبے میں درختوں کے رقبے، پائیداری، لائف اسپین اور جیو سرویلنس کی بنیاد پر مانیٹرنگ کر رہی ہے۔ پنجاب میں ڈیجیٹل فاریسٹ سسٹم، جرمن فائر ڈیٹیکشن ٹیکنالوجی، اے آئی ڈرون سرویلنس اور اینٹی تھیفٹ سسٹمز فعال ہیں جبکہ 600 اہلکاروں پر مشتمل خصوصی فاریسٹ فورس بھی تشکیل دی جا چکی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب کا پہلا وائلڈ لائف ہسپتال جولائی میں افتتاح کے لیے تیار ہے جبکہ ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت صوبے کے شہروں اور دیہاتوں میں صفائی کا مو ثر نظام نافذ کیا گیا ہے۔ صاف پانی کی فراہمی کے لیے 8 ارب روپے کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن سے جنوبی پنجاب، وسطی پنجاب اور پوٹھوہار کے علاقوں کو فائدہ پہنچے گا۔ پانچ ہزار چھ سو نئے واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب کیے جا رہے ہیں جبکہ دو ہزار دیہات میں پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت ترقیاتی کام جاری ہیں۔سینئر وزیر نے کچے کے علاقوں میں جاری آپریشنز پر تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ 58 ارب روپے کے ترقیاتی پروگراموں کے ذریعے ان علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے فلاحی پروگراموں سے جنوبی پنجاب کے عوام کو نمایاں فائدہ پہنچ رہا ہے۔ آسان کاروبار پروگرام، ہمت کارڈ، رحمت کارڈ، کسان کارڈ، گرین ٹریکٹر اسکیم، فلڈ ریلیف، نیوٹریشن پروگرام اور اسکول میل پروگرام سمیت متعدد منصوبوں میں جنوبی پنجاب کا حصہ 37 سے 60 فیصد تک ہے۔انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد کے 189 صنعتی یونٹس میں سے 111 یونٹس شہر سے باہر منتقل کیے جا رہے ہیں جبکہ ای موبلٹی پروگرام کے تحت الیکٹرک بسوں، رکشوں اور دیگر گاڑیوں کے لیے بائی بیک اور سبسڈی اسکیمیں متعارف کروائی گئی ہیں۔ اب تک 500 ای بسیں پنجاب پہنچ چکی ہیں جن میں سے 345 جنوبی پنجاب کے لیے مختص کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کلائمیٹ چینج پالیسی کے تحت 14 شعبوں کی میپنگ، اہداف اور بجٹ مقرر کیا گیا ہے اور469 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ہر ترقیاتی منصوبے میں ایک فیصد بجٹ کلائمیٹ ریزیلینس اور شجرکاری کے لیے مختص کرنا لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔ پنجاب کلائمیٹ آبزرویٹری بھی فعال ہو چکی ہے جو موسمیاتی ڈیٹا، مانیٹرنگ اور پالیسی سازی میں معاونت فراہم کرے گی۔سینئر وزیر نے کہا کہ صوبے بھر کے تعلیمی اداروں میں کلر کوڈڈ اور جی آئی ایس ٹیگڈ ری سائیکلنگ بنز نصب کیے جا چکے ہیں، کاربن کریڈٹ پروگرام جاری ہے اور سنگل یوز پلاسٹک کے خلاف پنجاب کی تاریخ کی سب سے بڑی آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب فنانشل مینجمنٹ ایکٹ کے مو ثر نفاذ، پنجاب اکنامک ٹرانسفارمیشن پروگرام، پہلی صوبائی گروتھ اسٹریٹیجی، سوشل اکنامک رجسٹری، ون میپ پنجاب، ای پروکیورمنٹ، ای آفس، بزنس ون ونڈو اور ڈیجیٹل گورننس کے منصوبوں نے صوبے کو جدید اور مو ثر طرز حکمرانی کی جانب گامزن کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گوجرانوالہ میں تعلیم کے شعبے میں اضافی کلاس رومز، سکالرشپس، اساتذہ کی کمی کا خاتمہ اور پہلی یونیورسٹی آف گوجرانوالہ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026-27 کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام، ماحولیات، آثار قدیمہ، سیاحت، ایکوا کلچر اور فشریز سمیت مختلف شعبوں کے لیے گرانٹس پنجاب اسمبلی سے منظور کر لی گئی ہیں۔انہوں نے وزیراعلیٰ کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت ترقی، شفافیت، ماحولیاتی تحفظ، عوامی فلاح اور معاشی استحکام کے ایجنڈے پر پوری سنجیدگی سے عمل پیرا ہے۔