پاکستان اپنے آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک کی مشترکہ پریس کانفرنس

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہےکہ پاکستان سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹرز ٹریٹی) کے معاملے کو صرف پاکستان اور بھارت کےدرمیان دوطرفہ تنازع کے طور پر نہیں بلکہ عالمی انصاف، بنیادی انسانی حقوق اور زیریں کنارے واقع ممالک کے پانی تک رسائی کے حق کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے، پاکستان کی معیشت،روزگار اور غذائی تحفظ کا …

اسلام آباد۔29جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہےکہ پاکستان سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹرز ٹریٹی) کے معاملے کو صرف پاکستان اور بھارت کےدرمیان دوطرفہ تنازع کے طور پر نہیں بلکہ عالمی انصاف، بنیادی انسانی حقوق اور زیریں کنارے واقع ممالک کے پانی تک رسائی کے حق کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے، پاکستان کی معیشت،روزگار اور غذائی تحفظ کا بنیادی انحصار پانی اور زراعت پر ہے اس لیے ملک اپنے آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، پاکستان بین الاقوامی سطح پر بھی اپنے موقف کو موثر انداز میں اجاگر کر رہا ہے اور آئندہ عالمی کانفرنس میں انڈس واٹر ٹریٹی، بین الاقوامی قوانین اور زیریں علاقوں میں واقع ممالک کے آبی حقوق کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا جائے گا۔

پیر کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے یہ معاملہ اقوام متحدہ، اس کے ذیلی اداروں اور بین الاقوامی ثالثی کے فورمز پر اٹھایا ہے جہاں پاکستان کے موقف کی تائید کی گئی ہے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ سندھ طاس معاہدے پر ہونے والےآئندہ سیمینار میں کیا گفتگو ہوگی، بلکہ یہ ہے کہ اس کے پس منظر میں موجود بنیادی مسئلہ کیا ہے۔انہوں نے سندھ اور بلوچستان کی سرحدی علاقے کے ایک کسان ’’اقبال سولنگی‘‘ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس کا گائوں 2010ء، 2012ء اور پھر 2022ء کے تباہ کن سیلابوں سے شدید متاثر ہوا جبکہ دیگر اوقات میں زمین اس قدر خشک ہو جاتی ہے کہ اس میں گہری دراڑیں پڑ جاتی ہیں اور کاشتکاری ممکن نہیں رہتی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اگرچہ ان حالات کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے تاہم ایک اور اہم عنصر بھی موجود ہے جو یہ طے کرتا ہے کہ کسانوں کو پانی ملے گا یا وہ خشک سالی کا شکار ہوں گے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ اقبال سولنگی کی کہانی دراصل پاکستان کے لاکھوں کسانوں کی کہانی ہے جن کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی 40 سے 50 فیصد آبادی کا ذریعہ معاش زراعت ہے،قومی معیشت کا 20 سے 25 فیصد حصہ اسی شعبے سے وابستہ ہے جبکہ ملک کی غذائی سلامتی کا انحصار بھی پانی کی دستیابی پر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت، غذائی تحفظ اور لاکھوں افراد کا مستقبل اس پانی سےوابستہ ہے، اس لیے یہ فیصلہ کسی دوسرے ملک کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کو پانی کب اور کتنا ملے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ حال ہی میں برسلز سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر یہی موقف پیش کر چکے ہیں کہ اگر بالائی کنارے پر واقع ممالک کو یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ زیریں کنارے والے ممالک کا پانی روک سکیں یا اس کے بہائو میں اپنی مرضی سے ردوبدل کریں تو اس کے اثرات دنیا بھر کے سرحد پار دریائوں پر مرتب ہوں گے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کبھی سپین نے پرتگال جانے والا پانی روکا ہے یا یورپ میں مشترکہ دریائوں پر واقع ممالک نےزیریں کنارے والے ممالک کو پانی سے محروم کیا ہے؟ اگر اس طرز عمل کو قبول کر لیا گیا تو دنیا کے تمام بین الاقوامی دریا خطرے میں پڑ جائیں گے۔ڈاکٹر مصدق ملک نےکہا کہ آئندہ کانفرنس صرف سندھ طاس معاہدے پر نہیں بلکہ انصاف، بنیادی حقوق اور اس اصول پر ہوگی کہ آیا دنیا بھر میں زیریں کنارے آباد بچوں اور آئندہ نسلوں کو پانی تک رسائی کا حق حاصل ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی میڈیا اور بین الاقوامی برادری کے سامنے سندھ طاس معاہدے، بین الاقوامی قوانین، تکنیکی نکات اور سرحد پار دریائوں سے متعلق عالمی کنونشنز کی تفصیلات بھی پیش کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں قائم ہونے والا امن بڑی حد تک بین الاقوامی معاہدوں اور قوانین کی پاسداری کا نتیجہ ہے، لہٰذا اگر عالمی معاہدوں کو نظر انداز کیا گیا تو بین الاقوامی قانون پر مبنی نظام کمزور ہو جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو پہلے ہی خدشہ تھا کہ رن آف دی ریور ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کے ذریعے بھارت فصلوں کے اہم موسم میں محدود مدت کے لیے پانی روک کر پاکستان کی زرعی پیداوار کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی فیصلوں میں پاکستان کے اس موقف کو تسلیم کیا جا چکا ہے کہ ایسے منصوبوں میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش تکنیکی اورانجینئرنگ حدود کے تابع ہوتی ہے اور اس میں لامحدود اختیار حاصل نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اگرچہ پانی کو مستقل طور پر نہیں روکا جا سکتا تاہم مختصر مدت کے لیے بھی پانی کے بہائو میں رکاوٹ زرعی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ڈیم صرف پانی ذخیرہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ پانی کی بروقت تقسیم اور زرعی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کے دوران منگلا اور تربیلا جیسے کئی ڈیموں کے برابر پانی سمندر میں چلا جاتا ہے جبکہ بوائی کے موسم میں کسان پانی کی قلت کا سامنا کرتے ہیں۔وفاقی وزیر نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ پانی ذخیرہ کرنے اور آبی وسائل کے انتظام کے منصوبوں پر قومی اتفاق رائے پیدا کریں کیونکہ یہ معاملہ سیاست سے بالاتر ہو کر پورے ملک کے کسانوں اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔دیامر بھاشا اور داسو ڈیم منصوبوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کی تفصیلات وزارت آبی وسائل کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں تاہم پاکستان ان منصوبوں کے لیے صرف بیرونی مالی معاونت پر انحصار نہیں کر رہا۔انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے پاکستان اپنے بچوں کےمستقبل کے لیے تعمیر کر رہا ہےاس لیے اگر بین الاقوامی قرضے یا امداد نہ بھی ملی تو بھی حکومت ان کی تکمیل کے لیے پرعزم ہے، اگرچہ اس صورت میں رفتار نسبتاً سست ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ قرضوں کی ادائیگی اور آئینی مالی ذمہ داریوں کے باعث وفاقی ترقیاتی وسائل محدود ہیں تاہم اس کے باوجود ترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ آبی منصوبوں کے لیے مختص کیا گیا ہے اور حکومت ان منصوبوں کے لیے فنڈنگ اور عملدرآمد دونوں میں مزید تیزی لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ پانی سےمتعلق امور پر مختلف سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا عمل جاری ہے جو سندھ طاس معاہدے سے متعلق حالیہ پیش رفت کے بعد مزید تیز ہوگا۔

 

مزید خبریں