پارلیمان جمہوری ملک کا بنیادی ستون، عوامی امنگوں کی حقیقی ترجمان ہوتی ہے، سپیکر قومی اسمبلی

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ پارلیمان کسی بھی جمہوری ملک کا بنیادی ستون اور عوامی امنگوں کی حقیقی ترجمان ہوتی ہے، پارلیمان کی بالادستی جمہوری نظام کے استحکام، آئینی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عوامی اعتماد کی ضامن ہے، ایک فعال، شفاف اور مؤثر پارلیمان ہی عوامی مسائل کے پائیدار حل اور قومی ترقی کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

اسلام آباد۔29جون (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ پارلیمان کسی بھی جمہوری ملک کا بنیادی ستون اور عوامی امنگوں کی حقیقی ترجمان ہوتی ہے، پارلیمان کی بالادستی جمہوری نظام کے استحکام، آئینی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عوامی اعتماد کی ضامن ہے، ایک فعال، شفاف اور مؤثر پارلیمان ہی عوامی مسائل کے پائیدار حل اور قومی ترقی کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار عالمی یومِ پارلیمنٹیرین کے موقع پر کیا جو ہر سال 30 جون کو اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی جمہوری اقدار، آئینی بالادستی، شفاف قانون سازی اور مؤثر احتساب کے فروغ کے لئے اپنی آئینی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازی کا مقصد محض قوانین کی منظوری نہیں بلکہ ایسا جامع، مؤثر اور عوام دوست قانونی نظام تشکیل دینا ہے جو عوامی فلاح، سماجی انصاف، معاشی ترقی اور قومی یکجہتی کو فروغ دے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں قانون سازی کے عمل کو مزید مؤثر، شفاف اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے پارلیمانی کمیٹیوں کے کردار کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، ڈیجیٹل نظام اور پارلیمانی استعدادِ کار میں اضافے کے ذریعے قانون سازی کے معیار کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ عوام اور پارلیمان کے درمیان مؤثر رابطہ اور عوامی شمولیت جمہوری نظام کی مضبوطی کے لئے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کے بدلتے وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ قانون سازی کے ساتھ پارلیمان کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ انتظامیہ کی موثر جواب طلبی کو ممکن بنائیں اور اپنے متعلقہ حلقہ ہائے انتخاب کی بھرپور نمائندگی کا فریضہ سر انجام دیں۔سپیکر قومی اسمبلی نے ملک کی سیاسی قوتوں پر قومی مفاد، جمہوری استحکام اور پارلیمان کی مضبوطی کے لئے باہمی اختلافات کو بھلا کر باہمی تعاون، برداشت اور مثبت سیاسی مکالمے کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ مضبوط پارلیمان ہی مضبوط، مستحکم اور خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی بین الپارلیمانی یونین (آئی پی یو ) کی ایک فعال رکن کی حیثیت سے عالمی سطح پر جمہوریت، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، خواتین اور نوجوانوں کی سیاسی شمولیت، پارلیمانی سفارتکاری اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لئے مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قومی اسمبلی بین الپارلیمانی یونین اور دیگر عالمی پارلیمانی فورمز کے ساتھ مل کر عالمی امن، بین الپارلیمانی تعاون اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی۔

سپیکر قومی اسمبلی نے علاقائی و عالمی امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کے لئے بین الپارلیمانی روابط کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی سفارتکاری مختلف ممالک کے درمیان اعتماد سازی، افہام و تفہیم، تجربات کے تبادلے اور مشترکہ قانون سازی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے جس سے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر جمہوری اداروں کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قومی اسمبلی آئین کی بالادستی، جمہوری تسلسل، شفاف حکمرانی اور مؤثر قانون سازی کے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے ایک مضبوط، باوقار، جدید اور مؤثر پارلیمانی نظام کے فروغ کے لئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

مزید خبریں