حریت لیڈر یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ 36 سال پرانے کیس میں نئی چارج شیٹ سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے
چھتیس سال پرانے کیس میں نئی چارج شیٹ سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے، مشعال ملک
اسلام آباد۔30جون (اے پی پی):حریت لیڈر یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ 36 سال پرانے کیس میں نئی چارج شیٹ سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے،فوت شدہ افراد کے نام پر مقدمہ بھارتی عدالتی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔یہاں جاری بیان میں مشعال ملک نے کہا کہ یاسین ملک کی عمر قید کو سزائے موت میں بدلنے کی کوشش انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے،جھوٹے مقدمات آزادی کی تحریک کو نہیں روک سکتے،حقِ خودارادیت کی آواز کو طاقت کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا۔ مشعال ملک نے کہا کہ کشمیری عوام کے جذبہ آزادی کو خوف اور تشدد سے ختم نہیں کیا جا سکتا،بھارت کا عدالتی ڈرامہ عالمی برادری کی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔مشعال ملک نے کہا کہ خاموشی برقرار رکھنا ظلم پر خاموش رضامندی کے مترادف ہے،یاسین ملک کے خلاف مقدمات انصاف نہیں، سیاسی انتقام کی عکاسی کرتے ہیں۔









