امریکا نے مبینہ طور پر میکسیکو کے ایندھن سمگلنگ نیٹ ورک سے وابستہ 2 میکسیکن شہریوں اور 9کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں۔
امریکا نے میکسیکو کے 2افراد اور 9کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں

مزید خبریں
واشنگٹن۔1جولائی (اے پی پی):امریکا نے مبینہ طور پر میکسیکو کے ایندھن سمگلنگ نیٹ ورک سے وابستہ 2 میکسیکن شہریوں اور 9کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے گزشتہ روز میکسیکو کے 2 شہریوں اور 9 کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں جن پر الزام ہے کہ وہ ایک ایسے سمگلنگ نیٹ ورک سے وابستہ ہیں جو امریکا سے ایندھن میکسیکو منتقل کرتا تھا اور درآمدی ٹیکس کی ادائیگی سے بچتا تھا۔ امریکی محکمہ خزانہ نے کہا ہے کہ یہ نیٹ ورک جالیسکو نیو جنریشن کارٹل (CJNG) سے منسلک ہے اور اس غیر قانونی کاروبار سے کارٹل کو ہر سال کروڑوں ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ منشیات کے بعد سمگل شدہ ایندھن اور چوری شدہ خام تیل میکسیکو کے کارٹلز کی آمدنی کا دوسرا بڑا ذریعہ بن چکے ہیں۔
امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ یہ کارروائی ظاہر کرتی ہے کہ میکسیکو کے کارٹلز روایتی منشیات کی سمگلنگ سے آگے بڑھ کر آمدنی کے نئے ذرائع اختیار کر رہے ہیں جبکہ وہ اب بھی ایسی مہلک منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہیں جن سے امریکی شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔ میکسیکو میں درآمد شدہ ڈیزل اور پٹرول سمیت مختلف اشیا پر لیوی عائد ہوتی ہے جسے IEPS کے نام سے جانا جاتا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق کارٹلز کسٹمز دستاویزات میں غلط معلومات درج کر کے اور سرکاری اہلکاروں کو رشوت دے کر اس ٹیکس سے بچتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ بعض امریکی کمپنیاں بھی اس عمل میں سہولت فراہم کرتی ہیں۔ وہ بڑی آئل ریفائنریوں اور ایندھن تقسیم کرنے والی کمپنیوں سے ایندھن خرید کر امریکا اور میکسیکو میں کمپنیوں کے ذریعے اسے غیر قانونی طور پر منتقل کرتی ہیں۔
محکمہ خزانہ کے مطابق امریکاسے سمگل کیا گیا ایندھن بعد ازاں میکسیکو میں کارٹل کے زیرِ کنٹرول پٹرول پمپس اور غیر قانونی سڑک کنارے ایندھن اسٹیشنز پر بھاری منافع کے ساتھ فروخت کیا جاتا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس غیر قانونی آمدنی کو منی لانڈرنگ کے ذریعے چھپایا جاتا ہے، جس میں لگژری اشیاء، جائیداد اور سرمایہ کاری کے اثاثے خریدے جاتے ہیں۔ محکمہ خزانہ نے بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کے لیے نئی ہدایات بھی جاری کی ہیں تاکہ سرحد پار ایندھن کی تجارت میں مشکوک سرگرمیوں کی بہتر نشاندہی کی جا سکے۔
امریکا کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کرنے والوں میں آسکر جورائدینی اور ان کی ملکیت یا کنٹرول میں موجود 7 کمپنیاں شامل ہیں جن میں سینٹرو کامبیاریو لا پیسیٹا ،او جے لیونگ ٹرسٹ ،آر کے ریئل کنگ، سوما ٹرانسپورٹے ای سرویسیوس ،اوگی فلیٹس ،او ایف ٹرانسپورٹیس ،برطانیہ میں رجسٹرڈ کمپنی کیوکمبر سویٹ ویوز شامل ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان اداروں نے جالیسکو نیو جنریشن کارٹل ( CJNG ) کی جانب سے کام کیا۔اس کے علاوہ جے ریفوجیو روئز اور ان کی2 لاجسٹک کمپنیاں جومادی لاجسٹکس اینڈ کارگو اور اہاوات لاجسٹکس سلوشن بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کی گئی ہیں کیونکہ ان پر کارٹل کو مادی معاونت فراہم کرنے کا الزام ہے۔






