حکومت کا چمڑےکی صنعت کی برآمدات بڑھانے کے لیے 2.8 ارب روپے کے پروگرام کا منصوبہ

حکومت کا چمڑےکی صنعت کی برآمدات بڑھانے کے لیے 2.8 ارب روپے کے پروگرام کا منصوبہ

اسلام آباد۔4جولائی (اے پی پی):حکومت نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت 2.8 ارب روپے مالیت کا لیدر سیکٹر اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کا مقصد تربیتی ڈھانچے کو جدید بنانا، افرادی قوت کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا اور برآمدی مسابقت کو مضبوط بنانا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق مجوزہ منصوبے پر وزارتِ صنعت و پیداوار سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کے ذریعے عملدرآمد کرے گی، جبکہ نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن اور صوبائی ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹیز اس میں شراکت دار ہوں گی۔یہ پروگرام پاکستان کے چمڑا، گارمنٹس، جوتا سازی اور چمڑے سے تیار ہونے والی مصنوعات کے شعبے کا احاطہ کرے گا ، جہاں اس وقت تقریباً دو ہزار اداروں میں چار لاکھ افراد کام کر رہے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت حکومت انسٹی ٹیوٹ آف لیدر ٹیکنالوجی، کراچی اور گوجرانوالہ میں قائم ایک تکنیکی تربیتی ادارے کی سہولیات کو جدید بنائے گی۔

اس منصوبے کا مقصد افرادی قوت کی مہارتوں کو صنعت کی جدید ضروریات سے ہم آہنگ بنانا ہے تاکہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے اور عالمی معیار اور ضابطوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔اس پروگرام کے اہم اجزا میں مہارتوں کے خلا کا جامع جائزہ، صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ نصاب کی تیاری، تکنیکی اداروں کی بحالی اور توسیع، جدید مشینری اور آلات کی تنصیب، افرادی قوت کے لیے سرٹیفکیشن پروگرامز اور قومی و بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے تربیت دینے والے اساتذہ کی استعداد کار میں اضافہ شامل ہیں۔دستاویز کے مطابق اس پروگرام سے زیادہ پیداواری اور عالمی سطح پر مسابقتی افرادی قوت تیار ہوگی، مصنوعات کے معیار میں بہتری آئے گی، پیداواری نقائص میں کمی ہوگی اور پاکستانی چمڑے کی مصنوعات پر بین الاقوامی خریداروں کا اعتماد بڑھے گا۔

یہ منصوبہ حکومت کی وسیع تر برآمدی حکمت عملی کا بھی حصہ ہے، جس کے تحت منصوبہ ساز 2039 تک چمڑے کے شعبے کی برآمدات کو بڑھا کر 2.5 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھتے ہیں۔مجوزہ فنڈنگ پلان کے تحت مالی سال 27۔2026 میں 56 کروڑ روپے جبکہ مالی سال 28۔2027 میں 2 ارب 24 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔

اس منصوبے میں غیر ملکی زرمبادلہ کا کوئی جزو شامل نہیں اور اسے دو سال میں مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔دستاویز کے مطابق سرکاری سرمایہ کاری اس لیے ضروری ہے کیونکہ نجی شعبہ اکیلے مطلوبہ پیمانے پر تربیتی نظام کو جدید نہیں بنا سکتا۔ مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدام چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے لیے عالمی معیار پر عملدرآمد کی لاگت کم کرنے میں مدد دے گا اور پاکستان کو چمڑے کی عالمی منڈیوں میں زیادہ ویلیو ایڈڈ برآمدات کی جانب منتقل ہونے میں معاون ثابت ہوگا۔