روانڈا کا قومی دن: امن، قومی یکجہتی اور معاشی ترقی کی شاندار داستان
روانڈا کا قومی دن: امن، قومی یکجہتی اور معاشی ترقی کی شاندار داستان

مزید خبریں
اسلام آباد۔4جولائی (اے پی پی):روانڈا کا قومی دن کی تقریبات کا ہفتہ کو روایتی جوش و خروش، قومی جذبے اور ثقافتی رنگوں کے اظہار کے ساتھ منا یا گیا ۔ اس موقع پرسرکاری سطح پر ثقافتی پروگرام، عوامی اجتماعات اورمختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا جن میں امن، قومی یکجہتی، مؤثر طرزِ حکمرانی، معاشی ترقی اور سماجی تبدیلی کے سفر کو اجاگر کیا گیا۔روانڈا کا قومی دن ہر سال 4جولائی کو منایا جاتا ہے جو تاریخی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ 1994 میں اس دن توتسی نسل کشی کے خاتمے اور قومی مفاہمت، استحکام اور تعمیرِ نو کے ایک نئے دور کے آغاز کی علامت کے طور پر منایا جا تا ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران مشرقی افریقہ کا یہ ملک غیر معمولی استقامت،مضبوط قیادت اور قومی اتحاد کی بدولت دنیا کے سامنے ایک کامیاب مثال بن کر ابھرا ہے، جہاں ماضی کے المناک حالات پر قابو پا کر ترقی کی نئی راہیں ہموار کی گئیں۔آج روانڈا کو افریقہ کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ بنیادی ڈھانچے،ٹیکنالوجی، سیاحت، زراعت اور صنعتی شعبوں میں مسلسل سرمایہ کاری کے نتیجے میں ملک نے نمایاں معاشی ترقی حاصل کی ہے۔دارالحکومت کگالی اپنی صفائی، امن و امان، جدید شہری منصوبہ بندی اور بہترین انتظامی نظام کی وجہ سے عالمی سطح پر منفرد شناخت رکھتا ہے، جبکہ روانڈا غیر ملکی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی کانفرنسوں کے لیے بھی ایک پرکشش مرکز بن چکاہے،سیاسی میدان میں روانڈا نے جوابدہ حکمرانی، ادارہ جاتی اصلاحات اور مؤثر عوامی خدمات کی فراہمی کو ترجیح دی ہے۔
حکومت نے قومی اتحاد کو مضبوط بنانے، امن و سلامتی کے فروغ، صحت کی سہولیات میں توسیع اور معیاری تعلیم تک رسائی بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔خواتین کی سیاسی نمائندگی کے حوالے سے بھی روانڈا دنیا کےنمایاں ممالک میں شامل ہے، جہاں پارلیمان میں خواتین کی نمائندگی عالمی سطح پر بلند ترین شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔روانڈا کی ثقافتی وراثت بھی اس کی قومی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ روایتی رقص، موسیقی، شاعری، دستکاری اور ثقافتی میلوں کے ذریعے نہ صرف قدیم روایات کو محفوظ رکھا جا رہا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ انٹورے رقاص، روایتی ڈھول کی تھاپ اور رنگا رنگ ثقافتی اظہار روانڈا کے عوام کی تہذیبی شناخت اور قومی فخر کی عکاسی کرتے ہیں۔
دوسری جانب پہاڑی گوریلوں، قومی پارکوں اور دلکش قدرتی مناظر نے روانڈا کو عالمی سیاحتی نقشے پر نمایاں مقام دلایا ہے۔بین الاقوامی سطح پر بھی روانڈا علاقائی امن،سفارت کاری اور پائیدار ترقی کے فروغ میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ ملک نے افریقہ، ایشیا، یورپ اور امریکہ سمیت دنیا کے مختلف خطوں کے ممالک کے ساتھ مثبت تعلقات استوار کیے ہیں اورموسمیاتی تبدیلی، امن مشنز اور اقتصادی تعاون سے متعلق عالمی کوششوں میں بھی سرگرم شراکت دار ہے۔قومی دن کے موقع پر روانڈا کی حکومت اور عوام اپنی قومی استقامت، اتحاد،مفاہمت، جدت اور جامع ترقی کے عزم کی تجدید کر رہے ہیں۔ یہ دن نہ صرف ملک کی تاریخی کامیابیوں کا اعتراف ہے بلکہ اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ مضبوط قیادت، قومی ہم آہنگی اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے ایک پرامن، خوشحال اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔دریں اثنا پاکستان کی کاروباری برادری کے رہنماؤں نے بھی روانڈا کے قومی دن پر حکومت اور عوام کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے روانڈا کو افریقہ کی تیزی سے ابھرتی ہوئی اور امید افزا معیشت قرار دیا ہے۔فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سینئر نائب صدر ذکی اعجاز نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے روانڈا کی غیر معمولی معاشی پیش رفت کوسراہا۔
انہوں نے کہا کہ روانڈا گزشتہ 25 برس کے دوران اوسطاً تقریباً 9 فیصد سالانہ جی ڈی پی نمو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہےجو اس کی مؤثر اقتصادی اصلاحات، شفاف طرزِ حکمرانی، سرمایہ کار دوست پالیسیوں اور پائیدار ترقی کے عزم کا مظہر ہے۔ ان کے بقول روانڈا افریقہ میں ترقی اور خوشحالی کی ایک کامیاب مثال بن چکا ہے۔اس موقع پر راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عثمان شوکا نے بھی روانڈا کے عوام کو قومی دن کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی مضبوط معاشی ترقی اور سیاسی استحکام نے بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پیدا کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ روانڈا افریقہ میں ایک ابھرتا ہوا معاشی مرکز بن چکا ہے جہاں پاکستان کی کاروباری برادری کے لیے تجارت، زراعت،مینوفیکچرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت اور خدمات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے روشن امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور روانڈا کے درمیان اقتصادی اور تجارتی روابط مزید مضبوط ہوں گے، جس سے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی مفاد پر مبنی اقتصادی تعاون کو فروغ ملے گا۔






