اسلامی یونیورسٹی میں منعقدہ علمی سرگرمی کے مقررین نے طلبہ میں تنقیدی سوچ، فکری ارتقاء اور مذہبی تنوع سے متعلق بہتر آگاہی کو عصر حاضر کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے مکالمے اور تحقیق کے فروغ پر زور دیا۔
اسلامی یونیورسٹی میں علمی سرگرمی کاانعقاد، مقررین نے طلبہ میں تنقیدی سوچ، فکری ارتقاء اور مذہبی تنوع کے بارے میں بہتر آگاہی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔7جولائی (اے پی پی):بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے کلیہ اصول الدین (طالبات) کے زیر اہتمام منعقدہ علمی سرگرمی میں مقررین نے طلبہ میں تنقیدی سوچ، فکری ارتقاء اور مذہبی تنوع کے بارے میں بہتر آگاہی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انچارج اکیڈمک افیئرز (طالبات) ڈاکٹر تیمیہ صبیحہ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اس نوعیت کی علمی سرگرمیاں طلبہ میں تنقیدی فکر، علمی استعداد اور مختلف مذاہب کے بارے میں گہری سمجھ بوجھ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔تقریب کی مہمانِ خصوصی اور کلیہ اصول الدین کی انچارج ڈاکٹر منزہ بتول نے طلبہ کی بھرپور شرکت کو سراہتے ہوئے انہیں تلقین کی کہ وہ تحقیق، مکالمے اور علمی سرگرمیوں کے ذریعے معاشرے میں مذہب کے کردار کو مزید گہرائی سے سمجھنے کی کوشش جاری رکھیں۔ انہوں نے تقریب کے کامیاب انعقاد پر منتظم اساتذہ ڈاکٹر مریم سلیمان، ڈاکٹر عامرہ سمیع، محترمہ امیمہ خان، محترمہ سندس فہاد اور عتیقہ فخر کی کاوشوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔اس موقع پر مقررین نے کہا کہ یہ تقریب بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے صدر پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد کے اس وژن کی عکاس ہے جس کا مقصد ایسا علمی ماحول فروغ دینا ہے جو تنقیدی تحقیق، باہمی احترام، فکری ہم آہنگی اور ذمہ دار عالمی شہریت کے تصورات کو مضبوط بنائے، جبکہ طلبہ کو معیاری تعلیم اور عملی علمی تجربات کے مواقع بھی فراہم کرے۔








