جدید قانونی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ججز کی خصوصی تربیت ناگزیر ہے، اعظم نذیر تارڑ

وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی، تجارتی رجحانات اور معاشرتی ضروریات کے پیش نظر ججز کی خصوصی تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ جدید قانونی چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹ سکیں

اسلام آباد۔7جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی، تجارتی رجحانات اور معاشرتی ضروریات کے پیش نظر ججز کی خصوصی تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ جدید قانونی چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹ سکیں۔ترجمان کے مطابق انہوں نے یہ بات وزارت قانون و انصاف میں ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لاء (آر ایس آئی ایل) اور سندھ جوڈیشل اکیڈمی کے کراس پروونشل جوڈیشل فیلوشپ پروگرام میں شریک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ انصاف کا نظام بدلتے ہوئے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے اور ٹیکنالوجی، کمرشل قوانین اور متبادل تنازعاتی حل (اے ڈی آر) جیسے شعبوں میں مہارت مستقبل کی عدلیہ کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے عدالتی استعداد کار میں اضافے اور قانونی اصلاحات کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔وفاقی وزیر قانون نے بتایا کہ انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربیٹریشن سینٹر (آئی ایم اے سی) کے تحت اب تک تقریباً 1,400 ججز، وکلاء، سرکاری افسران، ماہرین تعلیم اور دیگر پیشہ ور افراد تربیت حاصل کر چکے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فوجداری ضابطہ کار (سی آر پی سی) میں 100 سے زائد ترامیم تجویز کی جا رہی ہیں تاکہ فوجداری نظام انصاف کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اور مزید موثر بنایا جا سکے۔اس موقع پر آئی میک کے رجسٹرار احسان اللہ خان نے وفد کا خیرمقدم کیا جبکہ آر ایس آئی ایل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جمال عزیز اور سندھ جوڈیشل اکیڈمی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عارف راجپوت نے فیلوشپ پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ آئی میک کی پراجیکٹ ڈائریکٹر اور وزارت قانون و انصاف کی سینئر کنسلٹنٹ عائشہ رسول نے ادارے کی کارکردگی، کامیابیوں اور ثالثی و مصالحت کے فروغ کے لیے جاری اقدامات پر بریفنگ دی جبکہ ایڈیشنل ڈائریکٹر گلفام حمید نے وزارت قانون و انصاف کے مینڈیٹ اور اہم قانونی اصلاحات کا جائزہ پیش کیا۔تقریب کے اختتام پر وفاقی سیکرٹری وزارت قانون و انصاف راجہ نعیم اکبر (ہلال امتیاز) نے عدالتی اصلاحات، ادارہ جاتی تعاون اور قانون کی حکمرانی کے فروغ کے لیے وزارت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے جدید، موثر اور عوام دوست نظام انصاف کے قیام کے لیے عدالتی استعداد کار بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔بعد ازاں ججز اور وزارت قانون و انصاف کے اعلیٰ حکام کے درمیان قانونی اصلاحات، متبادل تنازعاتی حل، عدالتی جدیدکاری اور پاکستان کے نظام انصاف کے مستقبل سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔

مزید خبریں