پنجاب یونیورسٹی شعبہ میڈیا اینڈ ڈیویلپمنٹ کمیونیکیشن نے یو ایس مشن ٹوپاکستان اورپاکستان۔یوایس ایلمنائی نیٹ ورک کے اشتراک سے اپنے منصوبے ڈیجیٹل ٹرسٹ اینڈ فری ایکسپریشن ان دی اے آئی ایرا: اسٹرینتھننگ ریسپانسبل کنٹینٹ کری ایشن ان اوپن ڈیجیٹل اسپیسزکا افتتاح کر دیا
پنجاب یونیورسٹی نے ڈیجیٹل ٹرسٹ اور ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق منصوبے کا افتتاح کر دیا

مزید خبریں
لاہور۔7جولائی (اے پی پی):پنجاب یونیورسٹی شعبہ میڈیا اینڈ ڈیویلپمنٹ کمیونیکیشن نے یو ایس مشن ٹوپاکستان اورپاکستان۔یوایس ایلمنائی نیٹ ورک کے اشتراک سے اپنے منصوبے ڈیجیٹل ٹرسٹ اینڈ فری ایکسپریشن ان دی اے آئی ایرا: اسٹرینتھننگ ریسپانسبل کنٹینٹ کری ایشن ان اوپن ڈیجیٹل اسپیسزکا افتتاح کر دیا۔وائس چانسلرپنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے بطور چیف گیسٹ شرکت کرتے ہوئے ذمہ دار ڈیجیٹل کمیونی کیٹرز کی تیاری میں جامعات کے اہم کردار کو اجاگرکیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے دور میں جہاں سچائی ٹیکنالوجی سے مقابلہ کر رہی ہے، جامعات کو دیانت اور علمی نظم و ضبط کے ستون بن کر کھڑا ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت معلومات کی رفتار بڑھا سکتی ہے، مگر درستگی صرف انسانی فیصلے سے ہی ممکن ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگرچہ اے آئی وسیع ڈیٹا کو پروسیس کر سکتی ہے، لیکن وہ انسانی وجدان، ہمدردی اور جذباتی فہم کی جگہ نہیں لے سکتی،جو اخلاقی صحافت اور معتبر کہانی گوئی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔
پروجیکٹ لیڈ ڈاکٹر عائشہ اشفاق نے اے آئی سے تیار کردہ مواد، مصنوعی میڈیااورڈیپ فیکس کے بڑھتے ہوئے چیلنجز پر روشنی ڈالی اور صحافیوں اور ڈیجیٹل کنٹینٹ کری ایٹرز کے لیے مضبوط ویری فیکیشن اسکلز اور ذمہ دارانہ اے آئی استعمال کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے بکھری ہوئی معلومات کے دور میں صحافت کی اتھارٹی کو دوبارہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سچائی، شفافیت اور مضبوط ادارت ہی عوامی اعتماد کی بحالی کا ذریعہ ہیں۔ سینئر اینکر اور ڈیجیٹل میڈیا کنسلٹنٹ اجمل جامی نے مصنوعی ذہانت کے دور میں نیوز رومز کی تبدیلی پر گفتگو کی اور بتایا کہ کس طرح الگورتھمز مواد کی رسائی اور ناظرین کی مصروفیت کو متاثر کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اے آئی سے چلنے والے میڈیا ڈائنامکس کوسمجھیں اور خود کو ان کے مطابق ڈھالیں۔میڈیا ڈیویلپمنٹ پریکٹیشنر (شِرکت گاہ) فضلی ہادی نے پاکستان کے ڈیجیٹل انفارمیشن لینڈسکیپ کا جائزہ پیش کیا اور ابھرتے ہوئے رجحانات، صلاحیتی خلا اور ویری فیکیشن و فیکٹ چیکنگ کی فوری ضرورت پر روشنی ڈالی۔
تقریب میں ڈاکٹر شازیہ اسماعیل طور، ڈاکٹر مدیحہ مقصود اور یو ایس قونصلیٹ جنرل لاہور کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔یہ منصوبہ نوآموز صحافیوں، میڈیا طلبہ اور ڈیجیٹل کری ایٹرز کو ویری فیکیشن، اخلاقی کہانی گوئی اور ذمہ دارانہ اے آئی استعمال کی عملی مہارتیں فراہم کرنے کا مقصد رکھتا ہے، تاکہ پاکستان کے تیزی سے بدلتے ڈیجیٹل ماحول میں عوامی اعتماد کو مضبوط بنایا جاے۔








