وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ رجسٹرار آفس کو کسی آئینی درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دے کر واپس کرنے کا اختیار حاصل نہیں، کیونکہ درخواست کی قابلِ سماعت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ صرف عدالت ہی کر سکتی ہے۔
رجسٹرار کو آئینی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر واپس کرنے کا اختیار نہیں، فیصلہ صرف عدالت کرے گی، وفاقی آئینی عدالت

مزید خبریں
اسلام آباد۔7جولائی (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ رجسٹرار آفس کو کسی آئینی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر واپس کرنے کا اختیار حاصل نہیں، کیونکہ درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ صرف عدالت ہی کر سکتی ہے۔
رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس حسن اظہر رضوی نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف دائر چیمبر اپیل منظور کرتے ہوئے 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ رجسٹرار کا کردار صرف انتظامی نوعیت کا ہے اور وہ صرف ایسے اعتراضات عائد کر سکتا ہے جو قواعد و ضوابط سے متعلق ہوں۔ اگر کوئی درخواست رولز کے مطابق دائر نہ کی گئی ہو تو رجسٹرار آفس اسے واپس کر سکتا ہے تاہم اسے کسی بھی صورت عدالتی اختیارات استعمال کرنے یا درخواست کی قانونی حیثیت کا تعین کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ آئین میں ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں جس کے تحت عدالتی اختیارات کسی انتظامی افسر کو منتقل کیے جا سکیں۔ انتظامی افسر کو عدالتی اختیار دینا آئین میں درج اختیارات کی تقسیم کے اصول کے منافی ہے۔وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ رجسٹرار آفس کسی آئینی درخواست کو غیر سنجیدہ یا ناقابل سماعت قرار نہیں دے سکتا، کیونکہ اس نوعیت کے تمام فیصلے صرف عدالت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔یہ فیصلہ رضیہ اسلم کی جانب سے دائر چیمبر اپیل پر جاری کیا گیا۔ رجسٹرار آفس نے 14 فروری کو ان کی آئینی درخواست ناقابل سماعت ہونے کا اعتراض لگا کر واپس کر دی تھی جس کے خلاف درخواست گزار نے چیمبر اپیل دائر کی تھی۔ عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے رجسٹرار آفس کے اختیار سے متعلق اہم قانونی اصول وضع کر دیئے۔








