پاکستان میں صلح/ثالثی کے فروغ کے لئے اجتماعی قومی کوششیں ناگزیر ہیں، بیرسٹر عقیل ملک

وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں صلح اور ثالثی کے فروغ کے لئے عدلیہ، وکلا، جامعات، مذہبی علما، سول سوسائٹی، کاروباری اداروں اور میڈیا سمیت تمام متعلقہ حلقوں کی مشترکہ قومی کوششیں ناگزیر ہیں،اسلام امن، انصاف اور مفاہمت کا دین ہے اور صلح اس کی عظیم تعلیمات میں سے ایک ہے جس کے ذریعے طویل عدالتی مقدمات کے بجائے مکالمے اور …

اسلام آباد۔9جولائی (اے پی پی):وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں صلح اور ثالثی کے فروغ کے لئے عدلیہ، وکلا، جامعات، مذہبی علما، سول سوسائٹی، کاروباری اداروں اور میڈیا سمیت تمام متعلقہ حلقوں کی مشترکہ قومی کوششیں ناگزیر ہیں،اسلام امن، انصاف اور مفاہمت کا دین ہے اور صلح اس کی عظیم تعلیمات میں سے ایک ہے جس کے ذریعے طویل عدالتی مقدمات کے بجائے مکالمے اور ثالثی سے متعدد تنازعات خوش اسلوبی سے حل کئے جا سکتے ہیں۔

ترجمان کے مطابق وزارت قانون و انصاف کے تحت انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربیٹریشن سینٹر (آئی میک) کے زیر اہتمام کامسٹیک سیکرٹریٹ اسلام آباد میں "جدید دنیا کے لئے اسلام میں صلح، مذاکرات اور ثالثی کا نبوی فن” کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ حکومت متبادل تنازعاتی حل (اے ڈی آر) کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لئے اصلاحات متعارف کرا رہی ہے جن میں مخصوص نوعیت کے مقدمات میں لازمی ثالثی کی تجویز بھی شامل ہے۔انہوں نے مذہبی علما ء پر زور دیا کہ وہ نوجوان نسل کی رہنمائی کریں اور معاشرے میں صلح و مفاہمت کی ثقافت کو فروغ دیں۔

وزیر مملکت نے حالیہ علاقائی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور دیگر ریاستی اداروں کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں کمی لانے کی کوششوں میں تعمیری کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر تنازعات کے حل کا بہترین راستہ مکالمہ اور پرامن روابط ہیں۔ انہوں نے اے ڈی آر کے فروغ میں میڈیا کے کردار اور ملک بھر میں ثالثی کے فروغ کے لئے آئی میک کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی شرعی عدالت کے قائم مقام چیف جسٹس ،جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور نے کہا کہ پاکستان کا آئینی نظام اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ قوانین قرآن و سنت کے مطابق ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام انصاف، مکالمے اور مفاہمت کے ایسے دائمی اصول فراہم کرتا ہے جو تنازعات کی روک تھام اور ان کے حل میں رہنمائی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صلح، تحکیم اور حکم جیسے تصورات اسلامی فقہ میں گہری جڑیں رکھتے ہیں اور مذہبی علما و سماجی رہنماؤں کو چاہئے کہ وہ مساجد اور مقامی سطح پر مفاہمت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے ثالثی کے فروغ کے لئے آئی میک کی کاوشوں کو بھی سراہا۔اس سے قبل وفاقی سیکرٹری قانون و انصاف راجہ نعیم اکبر نے شرکا ء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں مفاہمت کو غیرمعمولی اہمیت حاصل ہے۔ انہوں نے قرآنی حکم "والصلح خیر” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جدید ثالثی کے بنیادی اصول اسلامی تعلیمات میں پہلے ہی موجود ہیں۔سیمینار کے تکنیکی سیشنز میں ناصر خان، مولانا ابراہیم حسین، ڈاکٹر سید عطا الرحمٰن اور پروفیسر ڈاکٹر سمیع الرحمٰن نے نبوی طرزِ مذاکرات، مذہبی بنیادوں پر ثالثی، عوامی پالیسی اور پاکستان میں صلح و ثالثی کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لئے قانونی اصلاحات پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔

سیمینار کے اختتام پر آئی میک کی پراجیکٹ ڈائریکٹر عائشہ رسول نے شرکا ء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج کی گفتگو نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ صلح اور ثالثی اسلامی تعلیمات اور پاکستان کی قانونی و ثقافتی روایات کا اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس نوعیت کے پروگرام مختلف شعبوں کے درمیان تعاون کو فروغ دیں گے اور ملک میں مکالمے، مفاہمت اور پرامن تنازعاتی حل کی ثقافت مزید مضبوط ہو گی۔ شرکا ء نے سیمینار کے موضوع کو بروقت اور انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئی میک مستقبل میں بھی ایسے پروگراموں کا انعقاد جاری رکھے گا تاکہ پاکستان میں صلح اور متبادل تنازعاتی حل کے نظام کو مزید فروغ دیا جا سکے۔