نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور کروشیا کے وزیر خارجہ و یورپی امور ڈاکٹر گورڈن گرلیچ ریڈمین کے درمیان ملاقات، مشترکہ اعلامیہ میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ
نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور کروشیا کے وزیر خارجہ و یورپی امور ڈاکٹر گورڈن گرلیچ ریڈمین کے درمیان ملاقات، مشترکہ اعلامیہ میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔9جولائی (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور کروشیا کے وزیر خارجہ و یورپی امور ڈاکٹر گورڈن گرلیچ ریڈمین کے درمیان ملاقات کے مشترکہ اعلامیہ میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔دونوں ممالک نے اسے پاکستان-کروشیا تعلقات میں نئی رفتار پیدا کرنے کا اہم موقع قرار دیا اور اعلیٰ سطحی روابط کو باقاعدگی سے جاری رکھنے اور تجارت، سرمایہ کاری، ترقی، موسمیاتی تبدیلی، سیاحت، بنیادی ڈھانچے، آئی ٹی، بندرگاہی تعاون اور دیگر شعبوں میں باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔جمعرات کو دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر کروشیا کے وزیر خارجہ و یورپی امور ڈاکٹر گورڈن گرلیچ ریڈمین نے 9 جولائی 2026ء کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے وزارت خارجہ اسلام آباد میں ڈاکٹر گورڈن گرلیچ ریڈمین کا استقبال کیا۔ دونوں رہنمائوں کے درمیان وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات ہوئے۔ دونوں فریقوں نے دوستانہ دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لیا اور اہم علاقائی و بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں نے دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ اس امر کو سراہتے ہوئے کہ یہ کروشیا کی جانب سے وزیر خارجہ کی سطح پر پاکستان کا پہلا اعلیٰ سطحی دورہ ہے، دونوں ممالک نے اسے پاکستان-کروشیا تعلقات میں نئی رفتار پیدا کرنے کا اہم موقع قرار دیتے ہوئے اعلیٰ سطحی روابط کو باقاعدگی سے جاری رکھنے اور تجارت، سرمایہ کاری، ترقی، موسمیاتی تبدیلی، سیاحت، بنیادی ڈھانچے، آئی ٹی، بندرگاہی تعاون اور دیگر شعبوں میں باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
دونوں ممالک نے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا استثنیٰ کے معاہدے اور دونوں ممالک کی سفارتی تربیتی اکیڈمیوں کے درمیان تعاون کی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر جلد دستخط اور آئندہ چند ماہ میں پاکستان میں کروشیا کی ویزا پروسیسنگ سہولت کے قیام کے لیے ضروری کارروائی تیز کرنے پر اتفاق کیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے اپنے قومی قوانین و ضوابط کے مطابق کروشیا کی جانب سے مقرر کردہ بیرونی سروس فراہم کنندہ کو اپنی ذمہ داریاں آزادانہ طور پر انجام دینے کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی۔ ان اقدامات سے ویزا کے عمل میں آسانی اور عوامی روابط و سفری تبادلوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ دونوں فریقوں نے اس بات کی توثیق کی کہ دونوں وزارت خارجہ کے درمیان یکم جون 2007ء کو زغرب میں دستخط شدہ دوطرفہ سیاسی مشاورت کی مفاہمتی یادداشت تمام باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے اس طریقہ کار سے بھرپور استفادہ کرنے، باقاعدہ رابطے برقرار رکھنے اور مفاہمتی یادداشت کے مطابق وقتاً فوقتاً مشاورتی اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔ کروشیا نے 2026ء کی آخری سہ ماہی یا 2027ء کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان میں دوطرفہ سیاسی مشاورت کے اجلاس کی میزبانی کی پاکستانی پیشکش قبول کر لی جبکہ حتمی تاریخیں سفارتی ذرائع سے طے کی جائیں گی۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دینے، تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے اور باہمی مفاد کے نئے شعبوں میں تعاون کے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔ اس ضمن میں دونوں نے ایک دوسرے کی منڈیوں تک بہتر رسائی اور کاروباری اداروں کے درمیان روابط مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ آئی ٹی، ڈیجیٹل خدمات، زراعت، دفاع اور بحری تعاون کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ دونوں ممالک نے اپنی جغرافیائی و تزویراتی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے رابطہ کاری اور لاجسٹکس کے شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا جس میں کروشیا کی بندرگاہوں کو یورپی منڈیوں کے داخلی راستے اور پاکستان کی بندرگاہوں کو چین، مغربی ایشیا، وسطی ایشیا اور وسیع تر خطے تک رسائی کے مراکز کے طور پر استعمال کرنے کے امکانات بھی شامل تھے۔
نائب وزیراعظم نے یورپی یونین کی جی ایس پی پلس (GSP+) سکیم کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا تسلسل نہ صرف معاشی اعتبار سے بلکہ سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے بھی نہایت مفید ہے۔ پاکستان نے یورپی یونین کے متعلقہ فریم ورک کے تحت تعاون جاری رکھنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ کروشیا نے یورپی یونین کے نئے جی ایس پی پلس ضابطے کے تحت پاکستان کی دوبارہ درخواست دینے میں دلچسپی کا نوٹس لیا۔ دونوں فریقوں نے ہجرت اور افرادی قوت کی نقل و حرکت کے شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون کو سراہا۔ محفوظ، منظم اور قانونی ہجرت کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کروشیا میں پاکستانی ہنرمند افرادی قوت کے لیے قانونی مواقع کی موجودگی کو تسلیم کیا اور مستقبل میں اس حوالے سے مزید بات چیت جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی۔دونوں وزرائے خارجہ نے ثقافت، تعلیم، سائنس اور تحقیق کے شعبوں میں تعاون بڑھانے، تعلیمی تبادلوں اور جامعات و تحقیقی اداروں کے درمیان روابط کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ پارلیمانی روابط کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اپنی مقننہ کے درمیان تعاون اور تبادلوں کی حوصلہ افزائی کرنے پر اتفاق کیا۔
دونوں ممالک نے اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت کو سراہا اور مختلف عالمی اداروں میں ایک دوسرے کی امیدواریوں کی حمایت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے کثیرالجہتی فورمز پر مشترکہ دلچسپی کے امور پر مشاورت جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے جموں و کشمیر تنازع پر بریفنگ دی جبکہ کروشیا نے یوکرین کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ دونوں ممالک نے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے مکمل احترام کے ساتھ پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں نے مغربی بلقان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور علاقائی و عالمی امور پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنمائوں نے افغانستان کی صورتحال پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی مسلسل موجودگی اور ہمسایہ ممالک کے خلاف ان کی کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
دونوں ممالک نے ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے افغان طالبان رجیم سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان میں موجود تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف بلاامتیاز، ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات کرے۔ دونوں رہنمائوں نے افغانستان میں انسانی حقوق بالخصوص خواتین اور بچیوں کے حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی۔ نائب وزیراعظم نے امریکہ۔ایران تنازع میں اپنی ثالثی کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ کروشیا نے پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا جس کے نتیجے میں 17 جون 2026ء کو تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad MoU) پر دستخط ہوئے اور بعد ازاں مذاکرات کا آغاز ممکن ہوا۔ دونوں فریقوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد، انسانی امداد کی محفوظ، فوری اور بلا رکاوٹ فراہمی اور مستقل جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں فریقین نے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور متعلقہ قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل کی بنیاد پر دیرپا اور پائیدار امن کی حمایت کا اعادہ کیا۔ دونوں ممالک نے عالمی منظرنامے میں ہونے والی تبدیلیوں پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے، اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں کی پاسداری اور عالمی امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔
اس تناظر میں انہوں نے ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، عدم مداخلت، تنازعات کے پرامن حل اور اقوام متحدہ کے منشور سے متصادم طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے اجتناب کی اہمیت پر زور دیا۔ ڈاکٹر گورڈن گرلیچ ریڈمین نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور پاکستان کے عوام کا پرتپاک میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان یہ دوستانہ اور نتیجہ خیز مکالمہ آئندہ برسوں میں باہمی خوشحالی اور مضبوط تعلقات کے فروغ کا باعث بنے گا۔








