"سندھ طاس معاہدے اور پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی اور جمہوری فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔”
پیپلز پارٹی بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف اتوارکوصوبہ بھر میں احتجاجی ریلیاں نکالے گی

مزید خبریں
کراچی۔ 09 جولائی (اے پی پی):بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی معطلی اور پاکستان کے آبی حقوق سے انحراف کے خلاف پیپلز پارٹی سندھ نے اتوار کوصوبے بھر میں مرسوں مرسوں سندھو نہ ڈیسوں احتجاجی ریلیاں نکالنے کا اعلان کردیا ہے۔
یہ اعلان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے یہاں اپنے جاری پارٹی پالیسی بیان میں کیا ۔انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اپنے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے نعرے کے تحت 12جولائی کو سندھ بھر کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں احتجاجی ریلیاں نکالے گی، اس ضمن میں پیپلز پارٹی کی تمام ضلعی تنظیمیں اپنے اپنے اضلاع میں احتجاجی ریلیاں نکالیں اوربھرپور عوامی شرکت یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لئے دریاسندھ اوراس کا پانی ہماری بقا ء اور زندگی ہے جس کا گلہ گھونٹنے نہیں دیا جائے گا۔بھارت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو ختم یا معطل نہیں کر سکتا، کیونکہ اس کا مقصد آبی وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا اور پانی سے متعلق تنازعات کو روکنا ہے۔کھوڑو نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیاں آبی معاہدہ 19ستمبر 1960 میں ہوا جس میں عالمی بینک نے ایک ثالث اور ضامن کا کردار ادا کیا اور معاہدے پر اس وقت کے پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارتی وزیراعظم جواھر لعل نھرو نے دستخط کئے تھے۔اس معاہدے کے تحت پاکستان کو دریائے سندھ،جہلم اور چناب دریا دئے گئے جبکہ بھارت کو راوی، بیاس اور ستلج دریا حوالے کئے گئے اور پاکستان کو مغربی دریائوں کے پانی کے مکمل استعمال کا حق دیا گیا اور دونوں ممالک کے انڈس کمشنرز پر مشتمل مستقل انڈس کمیشن قائم کیا گیا تھا اور اختلافات کی صورت میں پہلے کمیشن ثالثی عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے اس لئے بھارت کیجانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو ثالثی عدالت نے بھی غیرقانونی قرار دیدیا ہے۔ انہوں نے کہا کے بھارت کیجانب سے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش خطے کے امن کے لئے خطرہ ہوگی جبکہ دریائے سندھ سے گذر بسر اور زندگی وابستہ ہے اور کسی کے دریا کا گلہ گھونٹ کر زندگیاں چھیننے کی کوشش کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔نثار کھوڑو نے کہا کے دریائوں کے قدرتی بہا ئو اور پانی کے منصفانہ استعمال کے اصولوں کو تسلیم کیا جانا چاہئے کیوں کے پاکستان کو پانی احسان کے طور پر نہیں ایک بین الاقوامی معاہدے کے تحت دیا گیا اور بھارت کیجانب سے ہمارا پانی روکنا ہمارے وجود کے لئے خطرہ ہے۔نثار کھوڑو نے کہا کے دریاسندھ کے پانی کے تحفظ کے لئے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔








