غیر قانونی زرِ مبادلہ کیس: بحریہ ٹاؤن کے نائب چیف ایگزیکٹو سمیت 3 ملزمان کو قید اور جرمانے کی سزا، اثاثے ضبط کرنے کا حکم
غیر قانونی زرِ مبادلہ کیس: بحریہ ٹاؤن کے نائب چیف ایگزیکٹو سمیت 3 ملزمان کو قید اور جرمانے کی سزا، اثاثے ضبط کرنے کا حکم

مزید خبریں
اسلام آباد۔9جولائی (اے پی پی):فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کمرشل بینکنگ سرکل اسلام آباد بحریہ ٹاؤن کے نائب چیف ایگزیکٹو سمیت تین ملزمان کو غیر قانونی زرِ مبادلہ اور حوالہ ہنڈی کے کاروبار میں ملوث ہونے پر قید اور جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔ایڈیشنل سیشن جج ویسٹ اسلام آباد نصرمن اللہ بلوچ نے مقدمے کی سماعت مکمل کرتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کے نائب چیف ایگزیکٹو کرنل (ریٹائرڈ) خلیل الرحمان، حوالہ ایجنٹ عمران کاکا اور پراپرٹی ڈیلر مشتاق احمد کو مجرم قرار دیا۔ عدالت نے تینوں ملزمان کو ایک ،ایک سال قید، پانچ ،پانچ لاکھ روپے جرمانہ اور غیر قانونی مالی لین دین سے منسلک اثاثہ جات ضبط کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
ایف آئی اے ترجمان کے مطابق ملزمان کے خلاف فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947 (ترمیم شدہ 2020) کے تحت مقدمہ درج تھا اور تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا تھا کہ ملزمان بڑے پیمانے پر حوالہ ہنڈی کے ذریعے غیر دستاویزی مالی لین دین میں ملوث تھے جس سے ان کی دولت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے میں ایف آئی اے ٹیم کے ڈپٹی ڈائریکٹر رانا عابد حسین، تفتیشی افسر انسپکٹر زاہد بھٹی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل محمد افضال نے کلیدی کردار ادا کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ عدالتی فیصلہ ملک میں حوالہ ہنڈی نیٹ ورکس کے خلاف جاری کریک ڈاؤن میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔







