بینک ترجیحی شعبوں بالخصوص ایس ایم ای سیکٹر کے لیے قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کریں، وزیراعظم محمد شہباز شریف

اسلام آباد۔10جولائی (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے مختلف شعبوں کو آسان شرائط پر مالی سہولیات کی فراہمی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ بینک ترجیحی شعبوں بالخصوص ایس ایم ای سیکٹر کے لیے قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کریں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان میں ایکسیس ٹو فائنانس کے فروغ کے حوالے سے اعلیٰ …

اسلام آباد۔10جولائی (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے مختلف شعبوں کو آسان شرائط پر مالی سہولیات کی فراہمی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ بینک ترجیحی شعبوں بالخصوص ایس ایم ای سیکٹر کے لیے قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کریں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان میں ایکسیس ٹو فائنانس کے فروغ کے حوالے سے اعلیٰ سطح اجلاس جمعہ کو یہاں منعقدہوا۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم کو ایکسیس ٹو فائنانس پلان پر بریفنگ دی گئی اور معاشی استحکام سے پائیدار معاشی ترقی کے سفر کو تیز کرنے کے لیے ایکسیس ٹو فائنانس پلان کی ترجیحات اور اہداف پر روشنی ڈالی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ بنیادی ترجیحات میں مالی سہولیات کی فراہمی کو وسعت دینا اور اسے قومی سطح پر مرکزی دھارے کا حصہ بنانا شامل ہے۔

بریفنگ کے مطابق چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز)، زراعت، برآمدات، قابل تجدید توانائی، ہائوسنگ اور آئی ٹی شعبوں کے لیے آسان قرضوں اور کریڈٹ تک رسائی بڑھانا پلان کا مرکزی نکتہ ہے، برآمدات میں اضافہ، پائیدار معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا پلان کا بنیادی مقصد ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس منصوبہ پر عملدرآمد کرتے ہوئے وزارت خزانہ، سٹیٹ بینک آف پاکستان، صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں پر مشتمل پورے نظام پر مبنی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ نئے گورننس سٹرکچر کی سربراہی کریں گے جبکہ گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان شریک سربراہ ہوں گے، گورننس سٹرکچر کے تحت باقاعدہ اجلاس منعقد ہوں گے اور وزیراعظم کو ہر ماہ پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔ بریفنگ کے مطابق نئے گورننس سٹرکچر کے تحت اگلے 2 سال کے لیے مختلف شعبوں میں مالی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے پرعزم اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔

وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے مختلف شعبوں کو آسان شرائط پر مالی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے، ایس ایم ای سیکٹر ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ بینک ترجیحی شعبوں بالخصوص ایس ایم ای سیکٹر کے لیے قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کریں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آسان شرائط پر مالی سہولیات کی دستیابی سے برآمدات میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع اور پائیدار معاشی ترقی ممکن ہوگی، مالی سہولیات کی فراہمی میں بہتر کارکردگی دکھانے والے بینکوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایکسیس ٹو فائنانس پلان پر پیش رفت کے حوالے سے ماہانہ جائزہ اجلاس کی صدارت وہ خود کریں گے، حکومت مالی سہولیات تک رسائی بڑھا کر معیشت کو مزید مضبوط اور برآمدات پر مبنی بنانا چاہتی ہے۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ایکسیس ٹو فائنانس پلان کے اہداف میں بینکوں کی جانب سے ایس ایم ای سیکٹر کے لیے قرضوں کی تعداد اور قرض حاصل کرنے والے کاروباروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ شامل ہے، نجی شعبے کے قرضوں میں ایس ایم ای سیکٹر کا حصہ 7 فیصد سے بڑھا کر اگلے دو سال میں 10 فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ بریفنگ کے مطابق ایس ایم ای شعبے میں قرضوں سے مستفید افراد کی تعداد 310,000 سے بڑھا کر اگلے دو سال میں 750,000 کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد، پاکستانی بینکوں کے صدور و سی ای اوز، صوبائی چیف سیکرٹریز اور اعلیٰ سرکاری حکام شریک تھے۔