جموں کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی کی چیئرپرسن سردار نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ نے 13 جولائی کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی قربانیاں کشمیری عوام کے بنیادی حقوق، حقِ خودارادیت اور جمہوری اقدار کی جدوجہد کی روشن علامت ہیں۔
13 جولائی کے شہداء کو خراج عقیدت اور ان کی قربانیاں کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کی جدوجہد کی علامت ہیں،سردار نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔13جولائی (اے پی پی):جموں کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی کی چیئرپرسن سردار نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ 13 جولائی کے شہداء کو خراج عقیدت اور ان کی قربانیاں کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کی جدوجہد کی علامت ہیں،تحریک آزادی کشمیر حق خودارادیت اور جمہوری اقدار کی تحریک ہے،
ہر کشمیری کو آزادانہ رائے کے اظہار کا حق ملنا چاہیے۔پیر کو کل جماعتی حریت کانفرنس اور کشمیر سیل کے زیر اہتمام یوم شہدائے کشمیر کی مناسبت سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک آزادی میں مختلف نظریات رکھنے والوں کی رائے کا احترام کیا جانا چاہیے، اختلاف رائے کو دبانے کے بجائے مکالمے کو فروغ دیا جائے،ریاست جموں و کشمیر کے تمام خطوں اور تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہری حق خودارادیت کے مساوی حقدار ہیں۔سردار نبیلہ ارشاد نے کہا کہ 1931ء کے شہداء نے کشمیری عوام کو اپنی خواہشات کے مطابق مستقبل کے تعین کا حق دلانے کے لیے قربانیاں دیں،آزاد کشمیر کو تحریک آزادی کے بنیادی مقاصد کے مطابق ایک مثالی اور جمہوری ریاست بنایا جانا چاہیے،سیاسی اختلافات کا حل جمہوری مکالمے اور دلیل سے ممکن ہے، جبر اور پابندیاں مسئلہ کشمیر کے موقف کو نقصان پہنچاتی ہیں۔سردار نبیلہ ارشاد نے مقبوضہ کشمیر میں سیاسی رہنمائوں پر پابندیوں اور گرفتاریوں پر تشویش، بنیادی انسانی حقوق کے احترام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو آزادانہ ماحول میں اپنے مستقبل کے فیصلے کا حق دیا جائے۔سردار نبیلہ ارشاد نے کہا کہ بھارت پر مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی کوششوں کا الزام، عالمی برادری نوٹس لے،آزاد کشمیر میں بنیادی حقوق، اظہار رائے کی آزادی اور سیاسی برداشت کو یقینی بنایا جائے۔ سردار نبیلہ ارشاد نے نوجوانوں کو تحریک آزادی کشمیر کی تاریخ اور حقائق سے آگاہ کرنے کے لیے سیمینارز اور سٹڈی سرکلز کے انعقاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے باہمی احترام، اعتماد، برداشت اور جمہوری رویوں کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔








