کمشنر سرگودھا ڈویژن حافظ شوکت علی کی زیرِ صدارت ٹرانزیشن کمیٹی کے اجلاس میں ضلع میانوالی کے ڈی ایچ کیو ہسپتال کو ٹیچنگ ہسپتال میں اپ گریڈ کرنے اور میڈیکل کالج کے قیام کے منصوبے پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
کمشنر سرگودھا کی زیرِ صدارت ٹرانزیشن کمیٹی کے تیسرے ویڈیو لنک اجلاس کا انعقاد

مزید خبریں
سرگودھا ۔ 13 جولائی (اے پی پی):کمشنر سرگودھا ڈویژن حافظ شوکت علی کی زیرِ صدارت ضلع میانوالی میں ڈی ایچ کیو ہسپتال کو ٹیچنگ ہسپتال میں اپ گریڈ کرنے اور میڈیکل کالج کے قیام کے منصوبے پر عملدرآمد کے سلسلے میں ٹرانزیشن کمیٹی کا تیسرا ویڈیو لنک اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں گزشتہ اجلاسوں کے فیصلوں پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر ہونے والی پیش رفت سے متعلق متعلقہ محکموں نے بریفنگ دی۔اجلاس میں اسپیشل سیکرٹری اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن، اسپیشل سیکرٹری ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ، ڈپٹی کمشنر میانوالی، چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ میانوالی اور دیگر متعلقہ افسران نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ٹیچنگ ہسپتال کی اپ گریڈیشن، طبی آلات کی خریداری و تنصیب، تدریسی بلاکس کی تکمیل، فیکلٹی اور دیگر ہیومن ریسورس کی دستیابی، ریگولیٹری تقاضوں، مالی و انتظامی امور اور مجوزہ میڈیکل کالج کے قیام سے متعلق پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ محکموں نے اپنے اپنے شعبوں میں حاصل ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا جبکہ آئندہ مراحل کے لیے مربوط حکمتِ عملی پر اتفاق کیا گیا۔کمشنر حافظ شوکت علی نے ہدایت کی کہ منصوبے کے تمام مراحل مقررہ ٹائم لائن کے مطابق مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے، مؤثر ہم آہنگی اور مشترکہ کاوشوں کے ذریعے منصوبے کو جلد از جلد پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔کمشنر نے مزید کہا کہ منصوبے پر پیش رفت کی مسلسل مانیٹرنگ جاری رکھی جائے گی اور ہر مرحلے پر درپیش رکاوٹوں کو بروقت دور کیا جائے گا تاکہ منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل ہو سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام متعلقہ ادارے مؤثر رابطے اور باہمی تعاون کو یقینی بناتے ہوئے اس اہم منصوبے کو جلد از جلد عملی شکل دیں گے۔انہوں نے کہا کہ میانوالی میں ٹیچنگ ہسپتال اور میڈیکل کالج کا قیام وزیراعلیٰ کے عوام دوست وژن کی عملی تعبیر ہے جس سے نہ صرف میانوالی بلکہ پورے خطے کے عوام کو جدید طبی سہولیات میسر آئیں گی بلکہ نوجوانوں کو معیاری طبی تعلیم کے نئے مواقع بھی حاصل ہوں گے۔








