خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں بھیک مانگنے کے رجحان کی روک تھام اور حق داروں کی بحالی کے لیے ایک نیا قانون متعارف کرا دیا ہےجس کے تحت “Khyber Pakhtunkhwa Vagrancy (Control and Rehabilitation) Act 2026” کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہےاس مجوزہ بل کے ذریعے پیشہ ور گداگری کا سدِباب کیا جائے گا اور حقیقی مستحق افراد کی بحالی کو یقینی بنایا جائے گا۔نئے قانون کے تحت صوبے …
صوبے میں بھیک مانگنے کے رجحان کی روک تھام اور حق داروں کی بحالی کے لیے ایک نیا قانون متعارف

مزید خبریں
پشاور۔ 13 جولائی (اے پی پی):خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں بھیک مانگنے کے رجحان کی روک تھام اور حق داروں کی بحالی کے لیے ایک نیا قانون متعارف کرا دیا ہےجس کے تحت “Khyber Pakhtunkhwa Vagrancy (Control and Rehabilitation) Act 2026” کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہےاس مجوزہ بل کے ذریعے پیشہ ور گداگری کا سدِباب کیا جائے گا اور حقیقی مستحق افراد کی بحالی کو یقینی بنایا جائے گا۔نئے قانون کے تحت صوبے میں بھیک مانگنے والوں کے لیے خصوصی ری ہیبلیٹیشن (بحالی) سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔ ان مراکز میں بھکاریوں کی بحالی، ان کی ہنر مندانہ تربیت اور انہیں معاشرے کا کارآمد شہری بنا کر دوبارہ انضمام کے لیے ایک جامع نظام متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے جس میں بچوں، خواتین اور دیگر کمزور طبقات کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔صوبے سے گداگری کے مستقل خاتمے اور نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی صوبائی اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کی جائے گی۔ اس کمیٹی میں سوشل ویلفیئر، صحت، تعلیم، پولیس، لوکل گورنمنٹ اور دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی قانون پر سختی سے عملدرآمد کرانے، مانیٹرنگ اور تمام اداروں کے مابین باہمی رابطہ کاری (کوآرڈینیشن) کی ذمہ دار ہوگی، جبکہ گداگری کے خلاف باقاعدہ آگاہی مہمات بھی چلائی جائیں گی۔اس پورے نظام کو ڈیجیٹل خطوط پر استوار کرنے کے لیے بائیومیٹرک سسٹم، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے ذریعے شناخت، جیو ٹیگنگ اور ایک مرکزی ڈیٹا بیس کے استعمال کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
اس ٹیکنالوجی کی مدد سے پیشہ ور بھکاریوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والے سہولت کاروں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔بل میں بیرونِ ملک مقیم یا وہاں جا کر بھیک مانگنے والے پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف بھی گھیرا تنگ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ایسے عناصر کے پاسپورٹ، شناختی کارڈ اور بینک اکاؤنٹس بلاک کرانے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں بھی شامل کیے جا سکیں گے۔مجوزہ قانون کے تحت گداگری سے جڑے تمام جرائم کو ناقابلِ ضمانت قرار دیا گیا ہے جس کے بعد پولیس اور محکمہ سوشل ویلفیئر کو ملزمان کی فوری گرفتاری کا مکمل اختیار حاصل ہوگا۔ پہلی بار بھیک مانگتے ہوئے پکڑے جانے پر ملزم کو محض وارننگ، 10 ہزار روپے جرمانہ یا ایک ماہ قید کی سزا دی جائے گی، تاہم دوسری بار یہی جرم دہرانے پر سزا بڑھا کر 1 سال تک قید اور 50 ہزار روپے تک جرمانہ کی جا سکے گی۔اس کے علاوہ اگر کوئی شخص جسمانی معذوری کا جھوٹا ڈرامہ رچا کر بھیک مانگے گا، تو اسے 1 سال قید اور 10 ہزار روپے جرمانے کی سزا بھگتنی ہوگی۔ بل میں بچوں سے زبردستی بھیک منگوانے والے مافیا کے لیے سخت ترین سزا تجویز کی گئی ہے، جس کے تحت بچوں سے بھیک منگوانے کے جرم پر 3 سال تک قید اور 4 لاکھ روپے تک کا بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔








