مستقبل میں کامیاب وہی ہوگا جو مصنوعی ذہانت کو اپنے کاروبار کا حصہ بنائے گا، پروفیسر احسن اقبال

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ آئی ٹی کے شعبے میں کامیابی کے لیے بڑے کارخانوں یا بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں بلکہ صلاحیت، علم اور جدت ہی اصل سرمایہ ہیں، پاکستانی نوجوانوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر جذبہ اور مہارت موجود ہو تو ملک کے کسی بھی حصے سے بیٹھ کر یورپ اور امریکہ سمیت دنیا …

لاہور۔18جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ آئی ٹی کے شعبے میں کامیابی کے لیے بڑے کارخانوں یا بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں بلکہ صلاحیت، علم اور جدت ہی اصل سرمایہ ہیں، پاکستانی نوجوانوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر جذبہ اور مہارت موجود ہو تو ملک کے کسی بھی حصے سے بیٹھ کر یورپ اور امریکہ سمیت دنیا بھر کے کلائنٹس کو خدمات فراہم کی جا سکتی ہیں، مستقبل میں کامیاب وہی ہوگا جو مصنوعی ذہانت کو اپنے کاروبار کا حصہ بنائے گا۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے ہفتہ کے روز یہاں مقامی ہوٹل میں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام تیسرے آئی ٹی فری لانسنگ ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل صوبائی وزیر خزانہ میاں مجتبی شجاع الرحمن، سابق صدر لاہور چیمبر میاں انجم نثار، سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، نائب صدر خرم لودھی اور کنوینر اسٹینڈنگ کمیٹی برائے آئی ٹی مدثر نعیم سمیت کاروباری و آئی ٹی شعبے سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔

پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستانی فری لانسرز ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کما رہے ہیں اور ہماری معاشی خودمختاری کا سب سے بڑا ذریعہ برآمدات میں اضافہ ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ویتنام پاکستان سے کم برآمدات کرتا تھا لیکن آج وہ پاکستان کے مقابلے میں چار گنا بڑا ایکسپورٹر بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی سالانہ تقریبا 40 ارب ڈالر کی ترسیلات بھیجتے ہیں جبکہ 25 کروڑ آبادی والا پاکستان صرف 30 ارب ڈالر کی برآمدات کر رہا ہے جس کے باعث ملک کو بار بار آئی ایم ایف اور دوست ممالک کی مالی معاونت کی ضرورت پیش آتی ہے۔انہوں نے فری لانسرز اور آئی ٹی پروفیشنلز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "آپ مستقبل کی معیشت کے پائلٹ ہیں حکومت کا کام پالیسی سازی ہے جبکہ نجی شعبے کا کردار ملکی معیشت کے جہاز کو عالمی منڈیوں تک لے جانا ہے۔”

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ "میڈ اِن پاکستان” کو عالمی سطح پر معیار اور برانڈ کی علامت بنایا جائے گا، جس کے لیے حکومت اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ تاجروں اور کاروباری برادری کے مسائل وزیراعظم کے سامنے رکھے جائیں گے کیونکہ نجی شعبے کی عزت اور حوصلہ افزائی کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے اور مصنوعی ذہانت مستقبل کی کامیابی کا بنیادی ذریعہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے اداروں کی جگہ چھوٹے، جدت پسند اور ٹیکنالوجی سے لیس ادارے لے رہے ہیں اور کامیاب وہی ہوگا جو مصنوعی ذہانت کو اپنے کاروبار اور کام کا حصہ بنائے گا۔

انہوں نے تمام شعبوں پر زور دیا کہ وہ آئی ٹی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو اپنی سرگرمیوں میں شامل کریں اور آنے والے ٹیکنالوجیکل انقلاب کے لیے خود کو تیار کریں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ "اڑان پاکستان” جیسے قومی وژن میں انوویشن اور ڈیجیٹل معیشت کا فروغ ایک اہم ستون ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوش آئند امر ہے کہ حکومت آئی ٹی اور نالج اکانومی کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور نجی شعبہ باہمی تعاون سے پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹس میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں اور ملک کو خطے میں ایک مضبوط اور کامیاب ڈیجیٹل اکانومی ہب بنایا جا سکتا ہے۔فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ پاکستان کے آئی ٹی پروفیشنلز اور فری لانسرز اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط اور معاشی استحکام کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ کاروبار دوست پالیسیوں اور نجی شعبے سے مشاورت کے ذریعے آئی ٹی اور فری لانسنگ جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں کی مزید سرپرستی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر ملک کا واحد ادارہ ہے جو آئی ٹی فری لانسرز کی اس سطح پر حوصلہ افزائی کر رہا ہے اور گزشتہ تین برسوں میں یہ تیسری آئی ٹی فری لانسنگ ایوارڈز تقریب منعقد کی جا رہی ہے۔

انہوں نے فخر کے ساتھ بتایا کہ پہلے اور دوسرے ایوارڈز میں اعزاز حاصل کرنے والے تقریبا 50 فیصد فری لانسرز اپنے سافٹ ویئر ہاوسز قائم کر چکے ہیں، جو اس اقدام کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔ ان کے مطابق 2018 سے اب تک ملک میں فری لانسرز کی تعداد اور ان کے حاصل کردہ ریونیو میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

تقریب کے اختتام پر مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے فری لانسرز میں ایوارڈز تقسیم کیے گئے۔ نمایاں ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں وانیہ جاوید، احمر زمان، احسن علی، محمد عمیر، محمد عدنان، عثمان الیاس، دانیال منصف، احمد ثنان، فیصل فاروق، خالد رشید، حمزہ شریف، نعمان علی اختر، عدنان علی، فلاح احمد اور دعا شاہد شامل تھے۔ تقریب کے شرکا نے ایوارڈ یافتگان کی کامیابیوں کو پاکستان کے نوجوان ٹیلنٹ، جدت اور ڈیجیٹل معیشت کے روشن مستقبل کی عکاسی قرار دیا۔

مزید خبریں