لوک ورثہ میوزیم میں تقریب ،وفاقی وزیر اورنگزیب خان کچھی اور امریکا کے قائم مقام سفیر نے امریکی لبرٹی بیل نمائش کا افتتاح کیا

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی اور پاکستان میں امریکا کے قائم مقام سفیر (یو ایس چارج ڈی افیئرز)اینڈی ہیلس نے لوک ورثہ ہیریٹیج میوزیم میں امریکی لبرٹی بیل نمائش کا مشترکہ افتتاح کیا جو دونوں ملکوں کے درمیان دیرینہ ثقافتی شراکت داری کی علامت ہے۔ جاری بیان کے مطابق افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے اعلانِ آزادی کی 250ویں سالگرہ پر امریکی …

اسلام آباد۔23جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی اور پاکستان میں امریکا کے قائم مقام سفیر (یو ایس چارج ڈی افیئرز)اینڈی ہیلس نے لوک ورثہ ہیریٹیج میوزیم میں امریکی لبرٹی بیل نمائش کا مشترکہ افتتاح کیا جو دونوں ملکوں کے درمیان دیرینہ ثقافتی شراکت داری کی علامت ہے۔ جاری بیان کے مطابق افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے اعلانِ آزادی کی 250ویں سالگرہ پر امریکی عوام کو مبارکباد پیش کی اور پاکستان کے عوام کی جانب سے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ ثقافتی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے کیونکہ عوامی روابط اور ثقافتی تعاون دونوں ممالک کے دیرینہ دوطرفہ تعلقات کے مضبوط ترین ستونوں میں شامل ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اگرچہ پاکستان نسبتاً نوجوان جمہوریہ ہے، تاہم آئینی جمہوریت، انفرادی آزادی اور معاشی خودمختاری جیسے وہی اصول ہمارے لیے بھی اہم ہیں جنہوں نے امریکی خواب کی بنیاد رکھی۔

انہوں نے کہا کہ لوک ورثہ میوزیم میں اس نمائش کا انعقاد باعثِ مسرت ہے کیونکہ یہ ادارہ پاکستان کے زندہ ثقافتی ورثے کا امین ہے۔ ان کے مطابق یہ نمائش پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی، فنی اور تاریخی روابط کی عکاس اور دونوں ممالک کی بھرپور روایات کا جشن بھی ہے۔ پاکستانی فنکاروں کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان غیر معمولی تخلیقی صلاحیتوں کے حامل فنکاروں کی سرزمین ہے جو اپنے فن کے ذریعے قوم کی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ انہوں نے ان 16 پاکستانی فنکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے امریکی لبرٹی بیل کو منفرد فن پاروں میں ڈھال کر یہ ثابت کیا کہ فن کی کوئی سرحد، زبان یا تاریخ نہیں ہوتی۔ اورنگزیب خان کچھی نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات باہمی احترام اور مشترکہ مقاصد پر استوار ہیں جبکہ ثقافتی سفارت کاری اور عوامی روابط ان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں،پاکستان امریکا کے اعلانِ آزادی کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات میں شریک ہو کر خوشی محسوس کر رہا ہے۔

انہوں نے امریکی سفیر کے ثقافتی ورثہ تحفظ فنڈ کو ثقافتی ورثے کے تحفظ اور دوطرفہ تعاون کے فروغ میں ایک اہم اقدام قرار دیا۔ وفاقی وزیر نے حالیہ برسوں میں امریکا سے پاکستان کے قیمتی ثقافتی نوادرات کی کامیاب واپسی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ اہم کامیابی دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں امریکی مشن کے ساتھ قریبی رابطے نے ثقافتی شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنایا ۔وفاقی وزیر نے پاکستان میں امریکی مشن کی جانب سے پاک امریکا تعلقات کے فروغ کے لیے مسلسل تعاون کو بھی سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ ثقافتی شراکت داری دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد، دوستی اور ہم آہنگی کو مزید فروغ دے گی۔انہوں نے اس موقع پر پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تعاون اور عوامی روابط کو مزید مستحکم بنانے پر بھی زور دیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں امریکا کے قائم مقام سفیر اینڈی ہیلس نے کہا کہ ثقافتی ورثہ دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط پل کی حیثیت رکھتا ہے جس کے ذریعے دونوں ممالک تاریخ کے تحفظ اور ثقافت و فنون کے فروغ کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس سال کے آغاز میں 450 سے زائد پاکستانی ثقافتی نوادرات جن کی مالیت تقریباً 23 ملین امریکی ڈالر ہے، کی کامیاب واپسی میں وفاقی وزیر اورنگزیب خان کچھی کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔اینڈی ہیلس نے کہا کہ ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے وفاقی وزیر کی امریکا کے ساتھ شراکت داری اس بات کی عکاس ہے کہ دونوں ممالک ثقافت کو دوطرفہ تعلقات کے فروغ کا مؤثر ذریعہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے لوک ورثہ ہیریٹیج میوزیم کو لبرٹی بیل منصوبے کے آغاز کے لیے بہترین مقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ پاکستان کے ثقافتی ورثے کے تحفظ میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے اس لیے امریکی اور پاکستانی ثقافت، تخلیقی صلاحیتوں اور آزادی کے مشترکہ تصورات کے اظہار کے لیے یہ موزوں ترین جگہ ہے۔

اپنے ذاتی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے اینڈی ہیلس نے بتایا کہ ان کی پیدائش فلاڈیلفیا میں ہوئی جہاں تاریخی لبرٹی بیل امریکا کی آزادی کی اہم ترین علامتوں میں شمار ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کے اعلانِ آزادی کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات کے لیے پاکستان میں لبرٹی بیل کو مرکزی حیثیت دینا ایک فطری فیصلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ لبرٹی بیل پر درج الفاظ "تمام سرزمین میں اس کے تمام باشندوں کے لیے آزادی کا اعلان کرو” گزشتہ اڑھائی صدیوں سے آزادی کی علامت کے طور پر نسل در نسل لوگوں کو متاثر کرتے آئے ہیں۔ اینڈی ہیلس نے بتایا کہ پاکستان بھر میں قائم لنکن کارنر نیٹ ورک کے ذریعے 16 پاکستانی فنکاروں کو لبرٹی بیل کی حقیقی جسامت کی نقول پر مصوری کی دعوت دی گئی جہاں ہر فنکار سے سوال کیا گیا کہ میرے لیے آزادی کا کیا مطلب ہے،اس اقدام کے نتیجے میں 16 منفرد فن پارے تخلیق ہوئے جو آزادی، تخلیقی اظہار اور پاکستانی معاشرے کے متنوع نظریات کی عکاسی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج ان گھنٹیوں کو دیکھ کر مجھے پاکستان اور امریکا کے مشترکہ ورثے کی یاد آتی ہے جو اظہارِ رائے کی طاقت، فن کی اہمیت اور بہتر مستقبل کا تصور کرنے کی آزادی پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوک ورثہ طویل عرصے سے پاکستان کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے اور اب یہ نمائش امریکا کی آزادی کی داستان کو بھی پاکستان کے ایک اہم ثقافتی ادارے تک لے آئی ہے۔ انہوں نے نمائش میں شریک تمام فنکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امریکی لبرٹی بیل کو ایسے منفرد فن پاروں میں تبدیل کیا جو مشترکہ انسانی اقدار کی عکاسی کرتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔ اینڈی ہیلس نے کہا کہ 2027ء میں پاکستان اور امریکا کے درمیان سفارتی تعلقات کے 80 برس مکمل ہوں گے اور انہیں یقین ہے کہ ثقافتی تعاون دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی کو مزید مضبوط بنائے گا۔

مزید خبریں