مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کا فلسطینی باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز ، سینکڑوں گرفتار ، یہودی آباد کاروں نے بھی حملے تیز کر دیئے

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج نے فلسطینی باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا اور سینکڑوں فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا ، دوسری طرف یہودی آباد کاروں نے بھی مقامی مسلمانوں پر حملے تیز کر دیئے ہیں۔

مقبوضہ بیت المقدس۔27جولائی (اے پی پی):مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج نے فلسطینی باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا اور سینکڑوں فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا ، دوسری طرف یہودی آباد کاروں نے بھی مقامی مسلمانوں پر حملے تیز کر دیئے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں جارحانہ کریک ڈاؤن شروع کرتے ہوئے کئی قصبوں اور دیہاتوں پر دھاوا بول دیا اور سینکڑوں فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔ اسرائیلی فوج نے یہ اقدام یہودی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث نابلس کے قریب ایک گاؤں میں فائرنگ کے تبادلے کے جواب میں کیا ہے جس میں چار فلسطینی اور دو اسرائیلی فوجی مارے گئے تھے۔ اتوار کو فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے حکم پر مغربی کنارے میں وسیع پیمانے پر فوجی آپریش میں شدت آگئی اور یہودی آباد کار بھی لوٹ مار اور فلسطینیوں پر حملوں میں شامل ہو گئے۔ یہودی آباد کاروں نے دو مساجد کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی جن میں سے سے ایک نابلس کے جنوب مشرق میں واقع قصبہ قصرہ میں نئی ​​تعمیر کردہ الرحمہ مسجد تھی۔ یہودی آباد کار وں نے مسجد کی دیواروں پر انتقامی نعرے تحریر کیے اور پینٹ چھڑک دیا ۔

الجزیرہ کی طرف سے تصدیق شدہ وڈیوز میں مسجد کو آگ لگتی دکھائی دے رہی ہے۔ دوسرا حملہ تلکرم کے جنوب میں کوور گاؤں میں مسجد پر کیا گیا ۔ گاؤں کی کونسل کے ایک رکن فرید جیویسی نے بتایا کہ تین آباد کاروں نے فجر کے وقت مسجد کو آگ لگانے کی کوشش کی لیکن نمازیوں نے مسجد کے مرکزی احاطے تک پہنچنے سے پہلے آگ پر قابو پا لیا ۔ اسرائیلی فورسز نے نابلس کے قریب رفیدیہ پر چھاپہ مارا۔انہوں نے نابلس کے علاقے حوارہ میں طبی عملے کے رکن اور ایک شخص پر حملہ کیا۔ فلسطین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے بھی الخلیل کے جنوب میں واقع مسافر یطہ میں اپنے ایک طبی عملے کے رکن پر حملے کی اطلاع دی ہے۔ اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے پورے مقبوضہ مغربی کنارے میں رات کے دوران فلسطینیوں کے گھروں پر چھاپے مارے ۔ تال نامی گاؤں میں 30 افراد کو گرفتار کیا گیا، جہاں کریک ڈاؤن کی وجہ سے تصادم ہوا، اسی طرح رام اللہ میں 14، جنین میں5، الخلیل میں 8، بیت لحم میں 3 اور تلکرم میں 6 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

اسرائیلی فورسز نے جنین شہر اور جنین گورنری کے کئی قصبوں اور دیہاتوں میں بڑے پیمانے پر چھاپے مارے جن میں زبابدہ، فققہ، یباد، برقین، جالبون، قبطیہ، جلقمس، سلات الحارثیہ، الیامون، کفر دان، دیبعون اور دیبا شامل ہیں۔ اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے کے دیہاتوں کے داخلی راستوں اور مرکزی سڑکوں پر ٹریفک کی سخت پابندیاں اور متعدد حفاظتی چوکیاں لگا دی ہیں۔ تقریباً 20 اسرائیلی آباد کاروں کا ایک گروپ، جن میں سے اکثر رائفلیں اٹھائے ہوئے تھے، تشدد کو ہوا دینے کے ارادے سے تال کے قریب پہنچے۔مقامی فلسطینی یہودی آباد کاروں کا مقابلہ کرنے کے لیے گھروں سے نکل آئے اور کشیدگی بڑھنے پر اسرائیلی فوجی وہاں پہنچ گئے۔ مقامی فلسطینیوں میں سے ایک نے حملہ آور یہودی آباد کار سے بندوق چھین لی اور فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ایلا واویہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز تال میں ان دیہاتیوں کے گھروں پر چھاپے مار رہی ہیں جن پر تشددمیں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھروں کے انہدام کے لیے نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی فوج نے نابلس کے مشرق میں واقع قصبہ بیت دجن میں گھروں اور شیڈز کو مسمار کرنے کے دس نوٹس جاری کیے جبکہ جنین کے مشرق میں واقع گاؤں جلبون میں زیرِ تعمیر گھر بھی مسمار کر دیا گیا ۔بیت دجن کونسل کے نائب صدر توفيق الحج محمد نے بتایا کہ قابض فوج نے قصبے پر دھاوا بول کر رہائشیوں کو گھروں اور شیڈز جن میں مرغیوں کا ایک بند فارم بھی شامل ہے، کی مسماری کے دس نوٹس حوالے کیے۔ویلج کونسل جلبون کے سربراہ عوني أبو الرب کے مطابق قابض فوج نے جنین کے مشرق میں واقع گاؤں جلبون میں خالد أبو الرب نامی شہری کے زیرِ تعمیر گھر کو بغیر اجازت تعمیر کا بہانہ بنا کر مسمار کر ڈالا، جس کا رقبہ تقریبا 150 مربع میٹر تھا۔

مزید خبریں