وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے وزیراعظم کے ایکسیس ٹو فنانس پلان 2026-2028 پر تیز رفتار عملدرآمد کے لیے قائم رسائی برائے مالیات سٹیئرنگ کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی۔
وزیر خزانہ کی زیر صدارت ’’رسائی برائے مالیات‘‘ سٹیئرنگ کمیٹی کا پہلا اجلاس، ایکسیس ٹو فنانس پلان پر تیز رفتار عملدرآمد کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد۔27جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے وزیراعظم کے ایکسیس ٹو فنانس پلان 2026-2028 پر تیز رفتار عملدرآمد کے لیے قائم رسائی برائے مالیات سٹیئرنگ کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں ، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی)، برآمدات، قابل تجدید توانائی اور ہائوسنگ سمیت ترجیحی شعبوں کے لیے سستی اور آسان مالی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایک جامع بریفنگ پیش کی گئی جس میں مجوزہ گورننس ڈھانچے، مخصوص اہداف، عملدرآمد کے مختلف مراحل، مالی شمولیت کے فروغ اور ترجیحی شعبوں کے لیے رعایتی قرضوں تک رسائی بڑھانے کے اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔
کمیٹی کو ایس ایم ای فنانس ذیلی کمیٹی کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا جبکہ حکومت کے اہم مالیاتی پروگراموں جن میں ذرخیز (آسان زرعی قرضہ)، اپنا گھر سکیم اور پاکستان ایکسلریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن (PAVE) شامل ہیں، پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ منصوبے کا مقصد عوام کو کم لاگت الیکٹرک بائیکس اور ای رکشوں کی فراہمی کے ذریعے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی جانب منتقل کرنا ہے۔اجلاس میں مجوزہ تین سطحی گورننس فریم ورک پر بھی غور کیا گیا جس کے تحت وزیراعظم کو ماہانہ پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے گی، وفاقی وزیر خزانہ کی سربراہی میں سٹیئرنگ کمیٹی ہر پندرہ روز بعد سٹریٹجک جائزہ لے گی جبکہ مختلف شعبوں کی ذیلی کمیٹیاں ہفتہ وار بنیادوں پر پیش رفت کا جائزہ لیں گی۔
اجلاس میں رپورٹنگ کے مجوزہ نظام، ریزولوشن ٹارگٹ ڈیٹس ، منظم اسکیلیشن میکانزم اور باقاعدہ پیش رفت رپورٹس کے ذریعے جوابدہی اور نگرانی کو مزید موثر بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے پیش رفت کی نگرانی کے لیے ایک جامع ڈیش بورڈ کی تیاری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ سٹیئرنگ کمیٹی حکمت عملی، پالیسی ہم آہنگی اور پیش رفت کی نگرانی کا مرکزی فورم ہوگی جو بروقت فیصلوں، مختلف اداروں کے درمیان تعاون اور عملدرآمد میں درپیش رکاوٹوں کے حل میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کو قابل پیمائش نتائج کے حصول پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے اور مالیاتی رسائی سے متعلق پالیسی اور انتظامی مسائل کے موثر حل کو یقینی بنانا چاہیے۔اجلاس میں حکومت کے نمایاں مالیاتی پروگراموں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ذرخیز (آسان زرعی قرضہ) پروگرام کے تحت درخواستوں، منظوریوں اور قرضوں کی تقسیم کے رجحانات پر غور کیا گیا، جبکہ اپنا گھر سکیم اور PAVE منصوبے کے تحت موصول ہونے والی درخواستوں، منظوریوں، قرضوں کی فراہمی اور درپیش عملی چیلنجز کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایس ایم ای فنانسنگ کے قومی اہداف پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جن میں بینکاری شعبے میں ایس ایم ای قرضوں کے حجم اور تناسب میں اضافہ، فعال ایس ایم ای قرض لینے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ اور نتائج پر مبنی نگرانی کے نظام کو فروغ دینا شامل ہے۔ شرکا کو ایس ایم ای کریڈٹ سکورنگ، اوپن بینکنگ فریم ورک، ایس ایم ای ڈیجیٹل پورٹل، کریڈٹ بیوروز کے ساتھ انضمام اور اہم ویلیو چینز کے لیے مالی سہولتوں کو مضبوط بنانے سے متعلق اصلاحاتی اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔
وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ ایکسیس ٹو فنانس پلان کی کامیابی موثر عملدرآمد، واضح جوابدہی اور ادارہ جاتی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقررہ اہداف اور ٹائم لائنز پر سختی سے عمل، مختلف اداروں کے درمیان موثر ہم آہنگی اور ڈیٹا پر مبنی کارکردگی کی مسلسل نگرانی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیئرنگ کمیٹی اصلاحاتی عمل کو تیز رکھنے، عملدرآمد میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور منصوبے کے اہداف کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
اجلاس میں وفاقی سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال، گورنر سٹیٹ بینک ، چیئرمین سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، چیئرمین پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے)، چیف ایگزیکٹو آفیسر کارانداز پاکستان، وزارت خزانہ،سٹیٹ بینک آف پاکستان اور ایس ای سی پی کے سینئر حکام نے شرکت کی۔








