کپاس کی مصنوعات میں اضافےکے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں، کپاس قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور ملک کی کل پیداوار میں پنجاب کا حصہ نمایاں ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر ایگریکلچر ایکسٹینشن سرگودھا ڈویژن محمد اشفاق نے کپاس کی پیداوار کے منصوبے 2026ء کی تشکیل کے حوالے سے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
کپاس کی مصنوعات میں اضافے کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں،ڈائریکٹر

مزید خبریں
سرگودھا۔ 27 جولائی (اے پی پی):کپاس کی مصنوعات میں اضافےکے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں، کپاس قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور ملک کی کل پیداوار میں پنجاب کا حصہ نمایاں ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر ایگریکلچر ایکسٹینشن سرگودھا ڈویژن محمد اشفاق نے کپاس کی پیداوار کے منصوبے 2026ء کی تشکیل کے حوالے سے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
اُنہوں نے کہا کہ جلد کاشت کی جانے والی کپاس، شدید موسمی حالات اور کیڑوں کے حملے کا بہتر مقابلہ کر کے معیشت کو مستحکم کرنے اور پیداوار بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جلد کاشت سے پیداوار کے نقصان کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہو جاتا ہے کیوں کہ یہ فصل ناموافق موسم اور نقصان دہ کیڑوں کے خلاف نسبتاً زیادہ قوتِ مدافعت رکھتی ہے۔ ڈائریکٹر زراعت (ایکسٹینشن) نے نشاندہی کی کہ جلد کاشت کی جانے والی کپاس پر رس چوسنے والے کیڑوں، خاص طور پر سفید مکھی کا حملہ کم ہوتا ہے جس کے نتیجے میں ،لیف کرل وائرس،(پتوں کے مڑنے کی بیماری) کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملتی ہے۔
ڈائریکٹر زراعت نے اس بات پر زور دیا کہ کاشت سے قبل بیج کو تجویز کردہ کیڑے مار ادویات سے ٹریٹ کرنا (بیج کا کیمیائی علاج) انتہائی ضروری ہے،خاص طور پر جلد کاشت کے لیےفصل کو تقریباً ایک ماہ تک رس چوسنے والے کیڑوں سے محفوظ رکھتا ہے اور ابتدائی مرحلے میں صحت مند نشوونماء کو یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلد کاشت کے لیے ‘ٹرپل جین کپاس کی اقسام تجویز کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کسانوں کو مشورہ دیا کہ بیج خریدتے وقت اس بات کو یقینی بنائیں کہ بیج ‘فیڈرل سیڈ سرٹیفیکیشن اینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ’ سے تصدیق شدہ اور خالص ٹرپل جین قسم کا ہو؛ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر ٹرپل جین اقسام پر گلائفوسیٹ کا استعمال فصل کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرپل جین اقسام میں جڑی بوٹی مار دوا ‘گلائفوسیٹ کیخلاف قوتِ مدافعت موجودہوتی ہے۔ ڈائریکٹر ایگریکلچر ایکسٹینشن نے کہا کہ صوبائی وزیر زراعت پنجاب اور سیکرٹری زراعت پنجاب کی رہنمائی میں، صوبہ بھر میں کپاس کے کاشتکاروں کو جامع رہنمائی اور تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے زرعی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو قومی زرعی ترقی کے لیے ناگزیرقرار دیا اور کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کے عزم کا اظہار کیا۔








