"مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور اختراعی ادویات چین کی برآمدات کے نئے تین نمایاں شعبوں کے طور پر ابھر رہے ہیں، جو بین الاقوامی مارکیٹ میں چینی مصنوعات کی جدید ٹیکنالوجی، ذہین نظام اور مؤثر حل فراہم کرنے کی صلاحیت کی عکاسی کرتے ہیں۔”
چین کی صنعتی روبوٹکس برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 18.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ، چینی میڈیا

مزید خبریں
بیجنگ ۔1اگست (اے پی پی):مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور اختراعی ادویات چین کی برآمدات کے’’نئے تین نمایاں شعبے‘‘ ہیں۔ چائنا میڈیا گروپ کے سی جی ٹی این کی جانب سے دنیا بھر کے صارفین کے لیے کیے گئے ایک سروے میں 93.1 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ تین نئے نمایاں شعبوں کی مقبولیت اس بات کی عکاسی ہے کہ چینی مصنوعات اب بین الاقوامی مارکیٹ میں اصل ٹیکنالوجی،انٹیلیجنٹ سسٹم اور حل فراہم کر رہی ہیں۔اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2026 کی پہلی ششماہی میں چین کی صنعتی روبوٹکس برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 18.6 فیصد اضافہ ہوا، اٹیلیجنٹ بائیونک روبوٹس کی برآمدات دس ہزار یونٹس سے زیادہ رہیں اور ان کی رسائی 90 سے زیادہ ممالک اور علاقوں تک پہنچی ۔
چین کی اختراعی ادویات کی بیرونی لائسنس ٹرانزیکشنز کا کل حجم تقریباً110 ارب ڈالر ہے۔ سروے میں 87.7 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ ” نئے تین نمایاں شعبے” چین کی مضبوط مینوفیکچرنگ کی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہیں، 83.8 فیصد افراد نے کہا کہ چینی مینوفیکچرنگ تیزی سے ماحول دوست اور ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہو رہی ہے ۔ 91.3 فیصد افراد نے کہا کہ چینی مینوفیکچرنگ میں اب مسابقت کا فائدہ صرف پیمانے کا نہیں بلکہ معیار، ٹیکنالوجی، برانڈ اور سروس کے مجموعی فائدے میں منتقل ہو گیا ہے۔ 89.5 فیصدجواب دہندگان نے کہا کہ چین کے” نئے تین نمایاں شعبے” عالمی مینوفیکچرنگ کی جدت اور اپ گریڈ یشن کے لیے نئے مواقع فراہم کریں گے۔یہ سروے سی جی ٹی این کے انگریزی، ہسپانوی، فرانسیسی، عربی اور روسی پلیٹ فارمز پر شائع ہوا اور 24 گھنٹوں کے دوران 3339 افراد نے اس سروے میں حصہ لیتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کیا ۔








