"فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے پر برطانوی موسیقی گروپ میسیو اٹیک کے دو ارکان پر سنگاپور میں دوبارہ داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔”
سنگاپور، فلسطینی کاز کی حمایت کرنے والی کنسرٹ ٹیم کے ارکان کے سنگاپور داخلے پر پابندی
سنگاپور۔4اگست (اے پی پی):فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے پر برطانوی موسیقی گروپ میسیو اٹیک کے دو ارکان پر سنگاپور میں دوبارہ داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔
العربیہ اردو کے مطابق سنگاپور پولیس کے مطابق دو افراد سے تحقیقات کی گئیں کہ انہوں نے 29 جولائی کو موسیقی پروگرام کے دوران فلسطینی پرچم کیوں اٹھائے اور کیوں فلسطین کو آزاد کرنے کے نعرے لگائے۔پولیس کے مطابق اس نے اس معاملے کا سیریس نوٹس لیا کہ ایک غیر ملکی پرچم لہرانے اور نعرے لگانے سے نسلی و مذہبی ہم آہنگی کو نقصان ہو سکتا ہے۔ پولیس نے عوام سے بھی مطالبہ کیا اور غیر ملکیوں سے بھی کہ وہ اس طرح کی غیر ملکی سیاست کو اس تقریب کے دوران موضوع بحث نہ بنائیں اور نہ ہی قانون کی عملداری کو کمزر کریں۔سنگاپور پولیس نے ابھی تک ان دونوں افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی۔ تاہم مقامی میڈیا میں شیئر ہونے والی وڈیو فوٹیجز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں ایک رابرٹ تھری ڈی ڈیل ناجا اور دوسرا ڈیڈی جی مارشل شامل ہیں۔میسیو اٹیک نامی کنسرٹ ٹیم نے بھی اس پر جواباً کہا ہے کہ اسے سنگاپور پولیس کی طرف سے اپنے اوپر لگائی گئی پابندی پر حیرانی و مایوسی ہوئی ہے۔ ٹیم نے اپنے بیان میں کہا کہ اکثریت نے فلسطین کی آزادی کے نعرے لگائے تھے اور یہ نعرے کنسرٹ شروع ہونے اور کنسرٹ کے بعد لگائے جاتے رہے۔ اس لیے گروپ یہ توقع نہیں کرتا تھا کہ پرچم لہرانا کسی قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ انہیں اس پر فخر ہے کہ انہوں نے یہ سرگرمی کی اور اپنے مداحوں کے ساتھ فلسطین کاز کے لیے یکجہتی کا اظہار کیا۔میسی اٹیک نامی اس موسیقی گروپ نے سنگاپور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے عوام کو بھی اظہار رائے اور اپنے شعور کے اظہار کی اجازت دے اور ان کے اندر ریاستی جبر کے خوف کو نہ بڑھنے دے۔









