یومِ آزادی کے خواب سے حقیقت تک،تحریک آزادی کی کہانی،عظیم شاعرہ کشور ناہید کی زبانی

شاعرہ کشور ناہید نے یومِ آزادی کے خواب سے حقیقت تک،تحریک آزادی کی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ آزاد فضا جس میں ہم سانس لے رہے ہیں، اس کے پیچھے ہمارے آباؤ اجداد کی عظیم قربانیاں اور لازوال جدوجہد پوشیدہ ہے۔

اسلام آباد۔9اگست (اے پی پی):شاعرہ کشور ناہید نے یومِ آزادی کے خواب سے حقیقت تک،تحریک آزادی کی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ آزاد فضا جس میں ہم سانس لے رہے ہیں، اس کے پیچھے ہمارے آباؤ اجداد کی عظیم قربانیاں اور لازوال جدوجہد پوشیدہ ہے۔

کشور ناہید نے یومِ آزادی کی مناسبت سے1947کی دردناک اور تاریخ ساز یادوں کو تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ آزادی کے وقت ہجرت کرنے والے قافلوں کو خوفناک مناظر اور واقعات کا سامنا کرنا پڑاتھا،ہجرت کے دوران ٹرینوں میں سفر کرنے والی جوان لڑکیوں کو اغوا اورمردوں کو شہید کر دیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پہنچنے والے مہاجرین جہاں پناہ ملتی وہیں رک جاتے تھے۔کشورناہید نے بتایا کہ قیام پاکستان کے بعد سرکاری ملازمین کےپاس کام کیلئےکوئی میزیا کرسی نہیں ہوتی تھی،سرکاری ملازمین زمین پربیٹھ کرلکھتے تھے اور صفحوں کو جوڑنے کیلئے کانٹوں کا استعمال کرتے تھے۔ کشور ناہید نے مزید کہا کہ پاکستان میں پہلے سے موجود لوگوں نے کھلے دل سے مہاجرین کا استقبال کیا اور ان کی تمام ضروریات کا خیال رکھا،مہاجرین کی جدوجہد اس حقیقت کی گواہی ہے کہ پاکستان صرف ایک جغرافیہ نہیں بلکہ خوابوں کی تعبیر اور عزم کی علامت ہے۔

مزید خبریں