وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ پنشن کوئی رعایت، خیرات یا ریاست کی جانب سے عطیہ نہیں بلکہ ریٹائرڈ ملازم کا محفوظ، قابل نفاذ قانونی اور بنیادی حق ہے جسے بلاجواز روکنا آئینی انصاف سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ عدالت نے سرکاری ملازم کی بیوہ کو پنشن سمیت تمام واجبات فوری جاری کرنے کا حکم دے دیا۔
پنشن ریٹائرڈ ملازم کا محفوظ، قابل نفاذ قانونی اور بنیادی حق ہے ، وفاقی آئینی عدالت

مزید خبریں
اسلام آباد۔13اگست (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ پنشن کوئی رعایت، خیرات یا ریاست کی جانب سے عطیہ نہیں بلکہ ریٹائرڈ ملازم کا محفوظ، قابل نفاذ قانونی اور بنیادی حق ہے جسے بلاجواز روکنا آئینی انصاف سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ عدالت نے سرکاری ملازم کی بیوہ کو پنشن سمیت تمام واجبات فوری جاری کرنے کا حکم دے دیا۔چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل وفاقی آئینی عدالت کے بینچ نے بشیر حسین مرحوم کی بیوہ عابدہ پروین کی جانب سے دائر اپیل منظور کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بینچ کا 3 نومبر 2022ء کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
جسٹس سید ارشد حسین شاہ کی جانب سے تحریر کیے گئے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بشیر حسین میونسپل ایڈمنسٹریشن ایبٹ آباد میں فائر مین کے طور پر بھرتی ہوئے تھے تاہم تقرری کے وقت عمر کی مقررہ حد سے چھ سال زائد ہونے کے باوجود مجاز اتھارٹی نے ان کی عمر میں چھ سال کی رعایت منظور کی تھی۔فیصلے کے مطابق بشیر حسین 6 نومبر 2020ء کو ریٹائر ہوئے اور ان کی پنشن کے لیے مطلوبہ سروس میں 10 ماہ 25 دن کی کمی تھی۔ مجاز اتھارٹی نے سول سروس ریگولیشنز 423(2) کے تحت اس کمی کو باقاعدہ طور پر معاف کرتے ہوئے پنشن کے فوائد کی منظوری دے دی تھی تاہم اس کے باوجود پنشن جاری نہیں کی گئی۔عدالت نے قرار دیا کہ لوکل کونسل بورڈ نے خیبر پختونخوا حکومت کے پنشن رولز اختیار کر رکھے ہیں جبکہ متعلقہ ریکارڈ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مرحوم ملازم کی سروس تسلی بخش اور قابل تعریف تھی۔
انہیں بہترین کارکردگی کا سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا گیا تھا۔فیصلے میں کہا گیا کہ مجاز اتھارٹی کی جانب سے کوالیفائنگ سروس میں کمی کو قانونی طور پر معاف کیے جانے کے بعد پنشن روکنے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں تھا۔ تمام مطلوبہ شرائط پوری ہونے کے باوجود پنشن اور دیگر ریٹائرمنٹ فوائد روکنا قانون اور پنشن کے حقوق سے متعلق طے شدہ اصولوں کے منافی ہے۔وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ اعلیٰ عدلیہ کے متعدد فیصلوں کے مطابق پنشن ملازم کی کوئی رعایت، استحقاق یا خیرات نہیں بلکہ اس کا قانونی طور پر قابلِ نفاذ حق ہے۔ پنشن سماجی تحفظ کی ایک شکل ہے جو ریٹائرمنٹ کے بعد ملازم کی زندگی، عزت اور روزگار کے تحفظ کے لیے فراہم کی جاتی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ قانون کے مطابق پنشن کا حق پیدا ہونے کے بعد اسے انتظامی کارروائی کے ذریعے بلاجواز روکا یا کم نہیں کیا جا سکتا۔ پنشن کا حق زندگی، انسانی وقار اور معاش کے آئینی حقوق سے منسلک ہے، اس لیے انتظامی حکام کی من مانی یا غیر معقول کارروائی کے ذریعے اس حق کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگر کسی قانون یا قاعدے کی دو تشریحات ممکن ہوں تو ایسی تشریح اختیار کی جانی چاہیے جو سرکاری ملازم کے حقوق اور مفاد کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو۔عدالت نے اپنے حالیہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ پنشنری فوائد ریٹائرڈ ملازم کا محفوظ، قابل نفاذ، قانونی اور بنیادی حق ہیں اور انہیں مجاز عدالت کے حکم کے بغیر روکا نہیں جا سکتا۔ پنشن کی ادائیگی میں غیر ضروری، من مانی یا بلاجواز تاخیر بھی قانون کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کی اتھارٹی کو مجروح کرنے کے مترادف ہو سکتی ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ پشاور ہائی کورٹ نے کیس کے ریکارڈ پر موجود اہم مواد بالخصوص کوالیفائنگ سروس میں کمی کی معافی اور سول سروس ریگولیشنز 423(2)(b) کے اطلاق کا درست جائزہ نہیں لیا، اس لیے ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار نہیں رہ سکتا۔عدالت نے درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کر لیا اور قرار دیا کہ عابدہ پروین تمام قابل اطلاق پنشنری فوائد کی قانونی طور پر حقدار ہیں۔عدالت نے حکومت اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پنشن، فیملی پنشن، گریجویٹی، کمیوٹیشن، بقایاجات اور دیگر تمام متعلقہ ریٹائرمنٹ فوائد، بشمول قانون کے تحت وقتاً فوقتاً ملنے والے اضافے، تمام ضروری کارروائی مکمل کرکے فوری طور پر پراسیس، حتمی اور جاری کیے جائیں۔








