گزشتہ سال امدادی اداروں کے 350 کارکن مارے گئے ،اقوام متحدہ
گزشتہ سال امدادی اداروں کے 350 کارکن مارے گئے ،اقوام متحدہ
اقوام متحدہ ۔18اگست (اے پی پی):اقوام متحدہ کے شعبہ برائے انسانی امور کے ہنگامی امدادی دفتر (او سی ایچ ارے) نے بتایا ہے کہ2025 میں مارے جانے ہونے والے امدادی کارکنوں کی تعداد 350 تک پہنچ گئے، ان میں سے 186 غزہ اور 71 سوڈان میں مارے گئے۔ العربیہ اردو کے مطابق دفتر نے ایک بیان میں نشاندہی کی کہ 2025 امدادی کارکنوں کے خلاف ہونے والے تشدد کے واقعات کے حوالے سے ایک اور المناک اور ریکارڈ سال ثابت ہوا۔ اس شعبے کے 907 کارکن ہلاک، زخمی یا اغوا ہوئے۔
تحقیقاتی ادارے ہیومینیٹیرین آؤٹ کمز کے ڈیٹا بیس سے حاصل کردہ ان اعداد و شمار کے مطابق مرنے والوں کی یہ تعداد 2024 سے معمولی سی کم تھی، 2024 میں 377 امدادی کارکن ہلاک ہوئے تھے۔او سی ایچ اے کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اب تک دنیا بھر میں 82 امدادی کارکن قتل، 97 زخمی اور 39 اغوا ہو چکے ہیں۔
او سی ایچ اے سے جاری بیان میں بتایا کہ کم لاگت اور جدید تکنیک سے لیس مسلح ڈرونز کا پھیلاؤ انتہائی تشویشناک ہے، اس سے مختلف فریقین کو مہلک قوت استعمال کرنے کی صلاحیت مل رہی ہے۔ او سی ایچ اے کے مطابق سوڈان میں رواں سال کے پہلے چار ماہ میں عام شہریوں کی 80 فیصداموات انہی مسلح ڈرونز کی وجہ سے ہوئیں جن میں خاص طور پر منڈیوں اور طبی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ اقوام متحدہ کے امدادی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے کہا ہے کہ صرف تین سال میں ایک ہزار سے زیادہ امدادی کارکن ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ تعداد کسی بھی طور قابلِ قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ صرف مذمت کر دینے سے انہیں تحفظ نہیں ملے گا، ریاستوں کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی پاسداری کرنا ہوگی اور عام شہریوں اور ہمارے ساتھیوں کی حفاظت کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرنے ہوں گے۔ اسی طرح قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اپنے افعال کے نتائج بھگتنے ہوں گے۔ ٹام فلیچر نے کہا کہ مسلح ڈرونز ایک پرانے خطرے کا نیا روپ بن چکے ہیں، ان کے ذریعے عام شہریوں کی زندگیوں کو جان بوجھ کر یا لاپرواہی سے نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نےکہا کہ ٹیکنالوجی بدلے گی اور آگے بڑھے گی، لیکن جنگ کے بنیادی قوانین کبھی نہیں بدلتے۔








