نام نہاد آپریشن سندور پر بنائی گئی بھارتی ڈاکومنٹری حقائق کے بجائے ڈرامائی تشکیل، جذباتی بیانیے اور بالی ووڈ طرز کی منظرکشی پر مبنی ہے ، آئی ایس پی آر

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ معرکہ حق کو ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بھارت زمینی حقائق تسلیم کرنے سے انکاری ہے

راولپنڈی۔18اگست (اے پی پی):پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ معرکہ حق کو ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بھارت زمینی حقائق تسلیم کرنے سے انکاری ہے، نام نہاد آپریشن سندور پر بنائی گئی بھارتی ڈاکومنٹری حقائق کے بجائے ڈرامائی تشکیل، جذباتی بیانیے اور بالی ووڈ طرز کی منظرکشی پر مبنی ہے ، کسی بھی آئندہ بھارتی فوجی مہم جوئی کا مضبوط، فیصلہ کن اور غیر متناسب جواب دیا جائے گا۔آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق نام نہاد آپریشن سندور پر بنائی گئی بھارتی ڈاکومنٹری حقائق کے بجائے ڈرامائی تشکیل، جذباتی بیانیے اور بالی ووڈ طرز کی منظرکشی پر مبنی ہے ، منتخب انٹرویوز اور سینماٹک ری کنسٹرکشن کے ذریعے آپریشنل حقائق اور نتائج کو اپنی مرضی کے مطابق پیش کرنے کی کوشش کی گئی، ڈاکومنٹری میں موجود بنیادی تضادات خود بھارتی بیانیے کی کمزوری کو بے نقاب کرتے ہیں، بھارتی ڈاکومنٹری نے 16 اپریل 2025 کے آرمی چیف کے خطاب کو 22 اپریل کے پہلگام واقعہ سے جوڑ کر بے بنیاد سازشی بیانیہ گھڑنے کی کوشش کی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ نام نہاد آپریشن سندور کے 82 روز بعد بھارت کا دعویٰ ہے کہ پہلگام کے تین مبینہ ذمہ دار 28 جولائی 2025 کو مارے گئے، ️ اگر مبینہ ذمہ دار 28 جولائی کو مارے گئے تو بھارت واضح کرے کہ 7 مئی 2025 کو کس کو سزا دینے کا دعویٰ کیا گیا تھا؟ نام نہاد ’’100 فیصد مشن کامیابی‘‘ کا بھارتی دعویٰ بھی آپریشنل ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتا۔

بیان کے مطابق معرکہ حق کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی جارحیت ناکام بناتے ہوئے 8 بھارتی فوجی طیارے مار گرائے،️ آپریشن بنیان مرصوص میں فتح پریسیژن گائیڈڈ راکٹس و میزائل، پاک فضائیہ کے پریسیژن ہتھیار، لانگ رینج لوئٹرنگ میونیشنز اور پریسیژن آرٹلری استعمال کی گئی، پاکستان نے بھارتی جارحیت کے جواب میں 26 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جن میں پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنانے اور پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی سے منسلک تنصیبات بھی شامل تھیں، بھارتی فوجی قیادت خود پاکستانی میزائل، ڈرون اور فضائی سرگرمیوں سمیت لائن آف کنٹرول پر مسلسل جھڑپوں اور بھارتی فضائی دفاعی نظام کی فعالیت کا اعتراف کرتی ہے، بھارتی قیادت کے اپنے اعترافات پاکستان کی مبینہ ’’فیصلہ کن شکست‘‘ کے بھارتی دعوے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ بیان کے مطابق بھارتی ڈاکومنٹری خود تسلیم کرتی ہے کہ جنگی کارروائیاں دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے رابطے اور باہمی اتفاق سے بند ہوئیں، امریکی سہولت کاری سے ہونے والی جنگ بندی کو یکطرفہ بھارتی فوجی فتح قرار نہیں دیا جا سکتا، بھارت نے تاریخ کو ڈی کلاسیفائی نہیں بلکہ اپنی مرضی کے مطابق مرتب کرنے کی کوشش کی ہے، کوئی سینماٹک منظرکشی واقعات کی ترتیب، طیاروں کے نقصانات، فوجی جانی نقصان اور حقیقی عسکری کارروائیوں کو تبدیل نہیں کر سکتی۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کو معرکہ حق کے گرد مصنوعی بیانیہ بنانے کی ضرورت نہیں، آپریشنل ریکارڈ، میدانِ جنگ کے شواہد، سفارتی رابطے اور بھارت کے اپنے بیانات حقائق واضح کرتے ہیں، پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لئے پُرعزم ہے جبکہ ملکی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے دفاع کے لئے مسلح افواج مکمل تیار اور باصلاحیت ہیں، کسی بھی آئندہ بھارتی فوجی مہم جوئی کا مضبوط، فیصلہ کن اور غیر متناسب جواب دیا جائے گا۔

 

مزید خبریں