سال سے کم عمر بچوں کی شادیوں کی روک تھام کے لیے ایکٹ لایا جائے گا، طفیل انجم

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے بہبودِ آبادی طفیل انجم نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادیوں کی روک تھام کے لیے ایکٹ لانے جا رہی ہے

پشاور۔ 18 اگست (اے پی پی):وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے بہبودِ آبادی طفیل انجم نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادیوں کی روک تھام کے لیے ایکٹ لانے جا رہی ہے جبکہ اس پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ضروری قانون سازی بھی کی جائے گی، کم عمری کی شادی ایک اہم سماجی مسئلہ ہے، جس کے تدارک کے لیے حکومت تمام متعلقہ اداروں کے تعاون سے مؤثر اقدامات اٹھا رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز پشاور میں یو این ایف پی اے کے زیر اہتمام منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری محکمہ بہبودِ آبادی انیلہ محفوظ درانی، ڈائریکٹر جنرل بہبودِ آبادی عبداللہ، ڈائریکٹر پلاننگ عمران شاہ، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن سلمان، یو این ایف پی اے کے نیشنل پروگرام سپیشلسٹ ڈاکٹر جمیل احمد چوہدری اور صوبائی پروگرام کوآرڈینیٹر ماہ جبین قاضی نے شرکت کی۔اجلاس میں یو این ایف پی اے حکام نے صوبے میں صحت اور بہبودِ آبادی کے شعبوں میں جاری سرگرمیوں اور ادارے کے تعاون کے حوالے سے بریفنگ دی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ یو این ایف پی اے اس وقت صحت اور بہبودِ آبادی کے شعبوں میں 6 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ کر رہا ہے جبکہ محکمہ بہبودِ آبادی کو تکنیکی معاونت کی فراہمی کے ساتھ ساتھ کم عمری کی شادیوں جیسے اہم سماجی مسائل کے حل کے لیے بھی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔طفیل انجم نے کہا کہ حکومت آبادی میں متوازن اضافے، ماں اور بچے کی صحت کے تحفظ اور عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے جامع اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے لیے قانون سازی کے ساتھ ساتھ معاشرے میں آگاہی پیدا کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے یو این ایف پی اے کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت اور عالمی اداروں کے باہمی تعاون سے بہبودِ آبادی، صحت اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں جاری اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے لیے مجوزہ قانون سازی کے عمل کو تیز کیا جائے اور اس حوالے سے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔

 

مزید خبریں