وقوعہ کا حقیقی پس منظر واضح نہ ہو تو قتل کا مقدمہ دفعہ 302(c) کے تحت آ سکتا ہے، سپریم کورٹ

"وقوعہ کا حقیقی پس منظر واضح نہ ہونے، ملزم کے خود زخمی ہونے، مقتول کو صرف ایک وار لگنے اور پیشگی منصوبہ بندی کے شواہد نہ ہونے کی صورت میں مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302(c) کے دائرے میں آتا ہے، سپریم کورٹ”

اسلام آباد۔19اگست (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ وقوعہ کا حقیقی پس منظر واضح نہ ہونے، ملزم کے خود زخمی ہونے، مقتول کو صرف ایک وار لگنے اور پیشگی منصوبہ بندی کے شواہد نہ ہونے کی صورت میں مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302(c) کے دائرے میں آتا ہے۔

سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمے میں فہیم عرف ببلی کی سزائے موت ختم کرتے ہوئے اسے دفعہ 302(c) کے تحت 14 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی جبکہ مقتول کے شکایت کنندہ کی جانب سے سزا بڑھا کر سزائے موت کرنے کی درخواست خارج کردی۔جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے جیل پٹیشن نمبر 326/2021 اور کریمنل پٹیشن نمبر 928-L/2021 کا فیصلہ سنایا۔عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کے چشم دید گواہوں کی شہادت کو دیگر شواہد بالخصوص پولیس افسر اکبر غنی، سب انسپکٹر کے بیان کی روشنی میں دیکھا جائے تو وقوعہ کے اصل طریقہ کار پر شکوک پیدا ہوتے ہیں۔تفصیلی فیصلے کے مطابق ملزم وقوعہ کے روز زخمی حالت میں گرفتار ہوا اور اسے طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس افسر نے تسلیم کیا کہ ملزم کو اس کا بھائی زخمی حالت میں تھانے لایا تھا تاہم ملزم کی چوٹوں کے بارے میں اس کا موقف ریکارڈ نہیں کیا گیا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ وقوعہ کے وقت متعدد افراد موقع پر موجود تھے، لیکن کسی نے ملزم کو قابو کرنے یا مقتول کو بچانے کے لیے مداخلت نہیں کی۔ ملزم کے پاس خودکار ہتھیار نہیں بلکہ چاقو تھا، اس لیے گواہوں کا طرز عمل معمول کے مطابق دکھائی نہیں دیتا۔عدالت نے قرار دیا کہ طبی شواہد جسمانی تصادم کی نشاندہی کرتے ہیں تاہم استغاثہ کی جانب سے بیان کردہ واقعات کی ترتیب کی مکمل تائید نہیں کرتے۔ مقتول کو صرف ایک وار لگا، زخمی گواہ کو بھی ایک وار لگا جبکہ ملزم خود بھی زخمی ہوا۔فیصلے میں کہا گیا کہ وقوعہ کی اصل وجہ اور آغاز استغاثہ واضح طور پر ثابت نہیں کرسکا۔ یہ امکان بھی خارج نہیں کیا جاسکتا کہ دونوں فریقوں نے اصل حقیقت چھپائی اور اپنے اپنے کردار کو کم ظاہر کیا۔سپریم کورٹ کے مطابق واقعہ اچانک پیش آیا، پیشگی منصوبہ بندی یا سوچے سمجھے اقدام کا کوئی قابل اعتماد ثبوت نہیں ملا۔ ملزم نے مقتول پر صرف ایک وار کیا اور حملہ دہرایا نہیں جبکہ ایسا کوئی ثبوت بھی نہیں کہ ملزم نے صورت حال کا ناجائز فائدہ اٹھایا یا انتہائی سفاکانہ انداز اختیار کیا۔عدالت نے مقتول کو لگنے والے واحد وار، ملزم کے زخمی ہونے، زخمی گواہ کو پہنچنے والی چوٹ، وقوعہ کے حقیقی پس منظر کے غیر واضح رہنے اور پیشگی منصوبہ بندی کے شواہد نہ ہونے کو مجموعی طور پر دیکھتے ہوئے مقدمہ دفعہ 302(c) کے تحت قرار دیا۔سپریم کورٹ نے فہیم عرف ببلی کی دفعہ 302(b) کے تحت سزا ختم کرتے ہوئے اسے دفعہ 302(c) کے تحت 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔ باقی جرائم میں اس کی سزا برقرار رکھی گئی، تمام سزائیں بیک وقت چلانے اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 382-B کا فائدہ دینے کا حکم بھی دیا گیا۔مقتول کے شکایت کنندہ رانا محمد افضل کی جانب سے ملزم کی سزا عمر قید سے بڑھا کر سزائے موت کرنے کے لیے دائر کریمنل پٹیشن کو سپریم کورٹ نے غیر موثر قرار دیتے ہوئے خارج کردیا اور اجازت اپیل بھی مسترد کردی۔ٹرائل کورٹ نے 28 اپریل 2017ء کو فہیم عرف ببلی کو دفعہ 302(b) کے تحت سزائے موت سنائی تھی جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے 24 مئی 2021ء کو سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اب سزا مزید کم کرکے 14 سال قید کردی۔فیصلہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریر کیا ۔