پنجاب میں تمام اقلیتوں کو مذہبی آزادی اور حقوق کا مکمل تحفظ حاصل ہے، رمیش سنگھ اروڑہ

صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، خصوصاً اقلیتی لڑکیوں کو جبری تبدیلی مذہب، اغوا اور جبری شادیوں سے بچانے کے لیے جلد موثر قانون سازی اور موجودہ قوانین میں ضروری ترامیم کرے گی

لاہور۔24اگست (اے پی پی):صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، خصوصاً اقلیتی لڑکیوں کو جبری تبدیلی مذہب، اغوا اور جبری شادیوں سے بچانے کے لیے جلد موثر قانون سازی اور موجودہ قوانین میں ضروری ترامیم کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز فلیٹیز ہوٹل لاہور میں یورپی یونین، پارلیمانی کمیشن برائے انسانی حقوق اور سینٹر فار سوشل جسٹس کے اشتراک سے منعقدہ پالیسی ڈائیلاگ میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب اقلیتوں کو اپنے سر کا تاج سمجھتی ہیں اور موجودہ حکومت نے اقلیتی امور کے محکمے کو فعال بناتے ہوئے اقلیتوں کے لیے مختص بجٹ بڑھا کر14 ارب روپے کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسیحی شادی کے قانون کے حوالے سے بھی کام تیزی سے جاری ہے۔

صوبائی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ اقلیتوں کے مسائل حل کرنے کے لیے قانونی اقدامات کے ساتھ ساتھ معاشرتی رویوں میں تبدیلی لانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے جڑانوالہ واقعے کے بعد مسیحی برادری کی جانب سے لبرٹی میں کھلے عام مذہبی تہوار منانے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں تمام اقلیتوں کو مذہبی آزادی اور حقوق کا مکمل تحفظ حاصل ہے۔ تقریب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت رشید لودھی، اقلیتی ایم پی اے شکیلہ آرتھر، پی سی ایچ آر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شفیق چوہدری، سابق وفاقی وزیر کامران مائیکل اور سی ایس جے کے ڈائریکٹر پیٹر جیکب نے بھی شرکت کی اور جبری تبدیلی مذہب کے خاتمے کے لیے جامع پالیسی سازی پر زور دیا۔