یورپی یونین کے وفد کا محکمہ زراعت گلگت بلتستان کا دورہ، زرعی پالیسی، ایکشن پلان اور شعبے کی ترقی پر تبادلہ خیال۔
یورپی یونین کے وفد کا محکمہ زراعت، لائیو اسٹاک و فشریز کا دورہ، مجوزہ زرعی پالیسی اور ایکشن پلان پر تبادلہ خیال

مزید خبریں
گلگت۔ 24 اگست (اے پی پی):یورپی یونین کے ایک وفد نے سوموار کے روز محکمہ زراعت، لائیو اسٹاک و فشریز گلگت بلتستان کا دورہ کیا جہاں محکمہ کے سینئر افسران کے ساتھ مجوزہ زرعی پالیسی اور ایکشن پلان سمیت گلگت بلتستان میں زرعی شعبے کی ترقی اور مستقبل کی ترجیحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یورپی یونین کے وفد کی قیادت باربرا رکسن، کونسلر، یورپی یونین ڈیلیگیشن آفس اسلام آباد اور سربراہ برائے اکانومی، کوآپریشن، انویسٹمنٹ اینڈ رورل ڈویلپمنٹ نے کی۔ وفد میں الیخاندرو ماتوس فرسٹ سیکرٹری و پروگرام منیجر برائے توانائی و موسمیاتی تبدیلی، اشعب بیگ ٹیم لیڈر، یورپین یونین پالیسی سپورٹ پراجیکٹ ، ڈاکٹر ظفر خان ماہر پہاڑی زراعت ، ساجد علی خان ماہر آبپاشی اور زہرہ خانم ماہر ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ بھی شامل تھے۔محکمہ زراعت، لائیو اسٹاک و فشریز کی جانب سے اجلاس کی قیادت عثمان احمد، سیکرٹری زراعت، لائیو اسٹاک و فشریز، حکومت گلگت بلتستان نے کی۔ اجلاس میں ڈائریکٹر ایگریکلچر ریسرچ، گلگت، بلتستان اور دیامر ڈویژنز کے ڈائریکٹرز ایگریکلچر اور محکمہ کے دیگر سینئر، تکنیکی اور فیلڈ افسران نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے دوران گلگت بلتستان کی مجوزہ زرعی پالیسی، اس کے ایکشن پلان اور زرعی شعبے کی پائیدار ترقی و جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے درکار اقدامات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ زرعی پیداوار میں اضافے، تحقیق و توسیعی خدمات کو مضبوط بنانے، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت کے فروغ، آبپاشی اور پانی کے مؤثر استعمال، ویلیو چین اور مارکیٹ روابط کو بہتر بنانے، اور کسانوں بالخصوص نوجوانوں کے لیے معاشی و روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی۔سیکرٹری زراعت، لائیو اسٹاک و فشریز نے حکومت کے وژن سے وفد کو آگاہ کیا اور اس امر پر زور دیا کہ نئی زرعی پالیسی کو ایک عملی، قابلِ نفاذ اور نتائج پر مبنی روڈ میپ فراہم کرنا چاہیے، جس کے ذریعے زرعی شعبے کو جدید بنایا جا سکے، کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہو اور گلگت بلتستان بھر میں پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔یورپی یونین کے وفد نے زرعی پالیسی کی تیاری کے عمل کو سراہا اور گلگت بلتستان کی زرعی پالیسی اور ایکشن پلان کو حتمی شکل دینے اور اس کے مؤثر نفاذ کے لیے تکنیکی تعاون اور معاونت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔








