موڈیز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ سی اے اے ون سے سے بڑھا کربی تھری کردی، اصلاحات کے پروگرام پر مسلسل عمل درآمد سے پالیسیوں کی ساکھ مضبوط ہوئی ہے، موڈیز

موڈیز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ سی اے اے ون سے بڑھا کر بی تھری کر دی، مستحکم پیش منظر برقرار۔

اسلام آباد۔24اگست (اے پی پی):کریڈٹ ریٹنگ کی بین الاقوامی ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ سی اے اے ون سے سے بڑھا کربی تھری کرتے ہوئے ملک کے لیے مستحکم پیش منظر برقرار رکھا ہے، موڈیز نے اس فیصلے کی وجہ حکمرانی کے نظام میں مزید بہتری کی توقعات اور بیرونی و مالیاتی خطرات میں کمی کو قرار دیا ہے، موڈیز کے مطابق آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری اصلاحات کے پروگرام پر مسلسل عمل درآمد سے پالیسیوں کی ساکھ مضبوط ہوئی ہے، معاشی استحکام برقرار رہا ہے اور سرکاری و بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے فنڈنگ کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

موڈیز کی جانب سے پیرکوجاری بیان کے مطابق پاکستان کی ریٹنگ کو بی تھری تک اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ اس توقع کی عکاسی کررہاہے کہ حکمرانی اور پالیسی سازی میں بہتری کے باعث حکومت ملک کے بیرونی شعبے میں حالیہ بہتری کو برقرار رکھنے اور مالیاتی اشاریوں کو مزید مستحکم بنانے میں کامیاب رہے گی۔ موڈیز کے مطابق اگست 2025 میں پاکستان کی ریٹنگ سی اے اے ون مقرر کیے جانے کے بعد سے ملک کو درپیش بیرونی کمزوریوں کے خطرات میں مزید کمی آئی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جسے معاشی استحکام کے تسلسل سے تقویت ملی ہے ۔دوسری جانب شرح سود میں کمی کے باعث ملکی سطح پر قرض لینے کی لاگت میں کمی اور مالیاتی صورتحال میں بہتری نے پاکستان کی قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔ پاکستان کی کریڈٹ پروفائل میں بہتری اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ ملکی معیشت گزشتہ ادوار کے مقابلے میں بیرونی جھٹکوں جس میں جاری مشرق وسطی تنازع بھی شامل ہے کا مقابلہ کرنے کی زیادہ صلاحیت پیدا کر رہی ہے تاہم موڈیز نے خبردار کیا کہ اس مثبت پیش رفت کے باوجود پاکستان کی کریڈٹ پروفائل اب بھی بعض بنیادی کمزوریوں کا شکار ہے۔ موڈیز کے مطابق مستحکم آئوٹ لک ایک جانب پاکستان کے بنیادی کریڈٹ اشاریوں میں توقع سے زیادہ تیز بہتری کے امکانات اور دوسری جانب موجودہ خطرات کے درمیان توازن کی عکاسی کررہاہے ۔ اگر یہ خطرات شدت اختیار کرتے ہیں تو پاکستان کے لیے غیر ملکی کرنسی میں مالی وسائل تک رسائی متاثر ہو سکتی ہے اور حکومت کی مالیاتی گنجائش مزید محدود ہو سکتی ہے۔ موڈیز کے مطابق سی اے اے ون سے بی تھری تک اپ گریڈ کا اطلاق پاکستان گلوبل سکوک پروگرام کمپنی لمیٹڈ کی حکومت کی ضمانت یافتہ غیر ملکی کرنسی میں ر غیر محفوظ ریٹنگ پر بھی ہوگا۔ اس پروگرام کے تحت ادائیگی کی ذمہ داریاں براہ راست حکومتِ پاکستان کی ذمہ داری ہیں جبکہ پاکستان گلوبل سکوک پروگرام کا آئوٹ لک بھی مستحکم برقرار رکھا گیا ہے۔ اسی فیصلے کے ساتھ موڈیز نے پاکستان کی مقامی اور غیر ملکی کرنسی کی کنٹری سیلنگز بھی بالترتیب بی ٹواور سی اے اے ون سے بڑھا کر بی ون اوربی تھری کر دی ہیں۔ موڈیز کے مطابق مقامی کرنسی کی کنٹری سیلنگ اور پاکستان کی خودمختار ریٹنگ کے درمیان دو درجوں کا فرق ملکی معیشت میں حکومت کے نسبتا بڑے کردار، کمزور ادارہ جاتی ڈھانچے اور سیاسی و بیرونی خطرات کی بلند سطح کی عکاسی کرتا ہے ۔موڈیز نے کہا کہ جولائی 2026 کے اختتام تک پاکستان کے سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریبا 17 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جو جولائی 2025 کے آخر میں 14 ارب ڈالر تھے۔ یہ ذخائر تقریبا تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ ایجنسی کے مطابق پاکستان کا ایکسٹرنل ولنریبلٹی انڈیکیٹر ، یعنی مختصر اور طویل مدت میں واجب الادا بیرونی قرضوں کا زرمبادلہ کے ذخائر کے مقابلے کا تناسب، 2025 میں تقریبا 230 فیصد سے کم ہو کر 2026 میں تقریبا 145 فیصد رہ گیا ہے جو بیرونی مالیاتی خطرات میں نمایاں کمی کی نشاندہی کررہاہے ۔ موڈیز نے کہا کہ آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری اصلاحات کے پروگرام پر مسلسل عمل درآمد سے پالیسیوں کی ساکھ مضبوط ہوئی ہے، معاشی استحکام برقرار رہا ہے اور سرکاری و بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے فنڈنگ کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ پاکستان نے بتدریج بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں تک دوبارہ رسائی بھی حاصل کی ہے۔ اس دوران اپریل 2026 میں پاکستان نے تین سالہ مدت کا 75 کروڑ ڈالر کا یورو بانڈ جاری کیا جبکہ مئی 2026 میں چین کی مقامی بانڈ مارکیٹ میں اپنا پہلا 1.75 ارب چینی یوآن، یعنی تقریبا 25 کروڑ ڈالر کا پائونڈا بانڈ جاری کیاگیا۔ اس پیش رفت سے پاکستان کو ایک جانب زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور دوسری جانب مالی سال 2026 کے دوران اپنی تمام بیرونی مالیاتی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مدد ملی۔ ریٹنگ ایجنسی نے توقع ظاہر کی ہے کہ اگر حکومت آئی ایم ایف پروگرام پر پیش رفت برقرار رکھتی ہے، سرکاری و بین الاقوامی شراکت داروں سے بروقت رقوم ملتی رہتی ہیں اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک پاکستان کی بتدریج رسائی جاری رہتی ہے تو مالی سال 2027 کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر تقریبا 19 سے 20 ارب ڈالر اور مالی سال 2028 میں 20 سے 21 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام پر مسلسل عمل درآمد پاکستان کو مالی سال 2027 میں تقریبا 21 ارب ڈالر اور مالی سال 2028 میں تقریبا 30 ارب ڈالر کی بیرونی مالیاتی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے گا۔ ان ضروریات میں مالی سال 2027 میں تقریبا 7 ارب ڈالراور مالی سال 2028 میں تقریبا 12 ارب ڈالر کے ایسے دوطرفہ ذخائر یا ڈپازٹس بھی شامل ہیں، جن کے رول اوور کیے جانے کی توقع ہے۔ موڈیز نے کہا ہے کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں متوقع اضافہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں ایک مضبوط حفاظتی بفر فراہم کرے گا جو عالمی منڈیوں یا اشیاء کی قیمتوں میں منفی تبدیلیوں، خصوصا جاری مشرقِ وسطی تنازع کے باعث تیل کی بلند قیمتوں کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔موڈیز نے مزید کہا ہے کہ پاکستان کی قرضوں کی ادائیگی کی استطاعت میں بھی انتہائی کمزور سطح سے نمایاں بہتری آئی ہے۔ مالی سال 2026 میں حکومت کی آمدنی کا تقریبا 35 فیصد سود کی ادائیگیوں پر صرف ہوا جبکہ مالی سال 2025 میں یہ شرح 49 فیصد تھی۔ریٹنگ ایجنسی نے توقع ظاہر کی کہ پاکستان کی قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت میں حالیہ بہتری عارضی نہیں بلکہ نسبتا پائیدار ثابت ہو سکتی ہے، جس کی بنیاد معاشی استحکام کے تسلسل پر ہے۔موڈیز کے مطابق اگرچہ مہنگائی اب بھی شرح مبادلہ میں تبدیلیوں اور بیرونی جھٹکوں سے متاثر ہو سکتی ہے تاہم بیرونی شعبے میں مضبوط بفر، زیادہ مستحکم معاشی ماحول اور مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے حکومتی عزم سے مہنگائی کے دبائو کو محدود کرنے اور قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت میں ہونے والی بہتری کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔موڈیز کے مطابق عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، خصوصا جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے نتیجے میں افراط زر کے حوالہ سے ایک بڑا خطرہ ہے تاہم موڈیز کا خیال ہے کہ پاکستان کے مضبوط ہوتے پالیسی فریم ورک اور معیشت کی بہتر مزاحمتی صلاحیت ان منفی اثرات کو کسی حد تک کم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔