وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے مختلف ڈویژنز میں اون سورس ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کا جائزہ لیتے ہوئے متعدد ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی اور ہر منصوبے کی تکمیل کے لیے الگ الگ ٹائم لائن طلب کرلی۔وزیراعلی مریم نواز کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں لاہور، ملتان، بہاولپور، ساہیوال، راولپنڈی اور فیصل آباد ڈویژنز کے او ایس آر پراجیکٹس پیش کیے گئے۔
وزیراعلی مریم نواز کی زیر صدارت خصوصی اجلاس، متعدد ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی

مزید خبریں
لاہور۔24اگست (اے پی پی):وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے مختلف ڈویژنز میں اون سورس ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کا جائزہ لیتے ہوئے متعدد ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی اور ہر منصوبے کی تکمیل کے لیے الگ الگ ٹائم لائن طلب کرلی۔وزیراعلی مریم نواز کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں لاہور، ملتان، بہاولپور، ساہیوال، راولپنڈی اور فیصل آباد ڈویژنز کے او ایس آر پراجیکٹس پیش کیے گئے۔ اجلاس میں دورویہ سڑکوں کی تعمیر و توسیع، کارپٹنگ، فٹ پاتھ، کیٹ آئی، کرب سٹون، لین مارکنگ اور روڈ سائیڈ ڈرینج سمیت نکاسی آب، سمال سٹیڈیم، سپورٹس ایرینا، بیوٹیفکیشن اور ڈسپوزل سٹیشنز کی سولرائزیشن کے منصوبے شامل تھے۔
وزیراعلی نے سڑکوں پر مین ہولز اور گٹر کے ڈھکنوں کے لیول میں فرق کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ مین ہولز کا لیول سڑک کے برابر رکھا جائے۔ انہوں نے دکانداروں سے کسی بھی قسم کے چارجز کی بلااجازت وصولی روکنے اور نئی سڑک کی تعمیر کے بعد کھدائی یا کسی بھی قسم کی توڑ پھوڑ پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا۔ وزیر اعلی نے نئی تعمیر ہونے والی ہر سڑک کے اطراف معیاری سائٹ ڈرینج، روڈ سائیڈ سائنیج اور لین مارکنگ یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے تمام روڈ پراجیکٹس کو مکمل طور پر ڈسٹ فری بنانے کا حکم دیا۔
اجلاس میں لاہور کی دس سڑکوں کی بیوٹیفکیشن کی منظوری دی گئی، جن میں ایجرٹن روڈ، لٹن روڈ، ڈیوس روڈ، لوئر مال، لارنس روڈ، کیوئنز روڈ اور بینک روڈ شامل ہیں۔ لکشمی چوک کی بیوٹیفکیشن، میٹرو ٹریک اور پلرز پر آرٹ ورک کا منصوبہ بھی پیش کیا گیا۔ وزیراعلی نے ملتان روڈ پر اورنج لائن ٹرین ٹریک کی بیوٹیفکیشن، صفائی، شجرکاری اور میورل پینٹنگ کی بھی ہدایت کی۔لاہور کے مضافاتی دیہی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر و توسیع کے منصوبے کی منظوری کے علاوہ ضلع قصور میں سڑکوں کی تعمیر و توسیع، سولر سٹریٹ لائٹس اور بیوٹیفکیشن جبکہ ضلع شیخوپورہ میں سیوریج اینڈ پمپنگ سٹیشنز اور سڑکوں کی تعمیر و توسیع کے پانچ منصوبوں کی منظوری دی گئی۔
ملتان ڈویژن میں 42 اون سورس ڈویلپمنٹ پراجیکٹس منظور کیے گئے۔ ملتان میں دورویہ سڑکوں، لین مارکنگ اور ڈرینج جبکہ مضافاتی علاقوں میں سیوریج اور ڈرینج کے منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔ خانیوال، کبیر والا، میاں چنوں، جہانیاں اور تلمبہ میں بھی مختلف منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ ضلع وہاڑی میں سڑکوں اور ڈسپوزل سٹیشنز کی سولرائزیشن سمیت چھ سکیمیں جبکہ لودھراں میں چلڈرن پارک، سٹریٹ لائٹس، سڑکوں کی تعمیر و توسیع اور بیوٹیفکیشن سمیت چھ ترقیاتی منصوبے منظور کیے گئے۔بہاولپور میں 12، رحیم یار خان میں 3 اور بہاولنگر میں 8 اون سورس ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کی منظوری دی گئی۔ ساہیوال میں 13، اوکاڑہ میں 4 اور پاکپتن میں 14 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی،
جن میں سڑکوں کی بیوٹیفکیشن، تعمیر و توسیع، سولر سٹریٹ لائٹس اور سپورٹس ایرینا کے منصوبے شامل ہیں۔فیصل آباد میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے 13 منصوبے، چنیوٹ میں 6 اور جھنگ میں 18 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں شاپنگ ایرینا اور فوڈ سٹریٹ جبکہ کمالیہ میں سپورٹس سٹیڈیم اور بیڈ منٹن سٹیڈیم تعمیر کیا جائے گا۔راولپنڈی میں 13، اٹک میں 6، مری میں 4 جبکہ جہلم اور چکوال میں 7، 7 منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلی نے حسن ابدال، حضرو، کلر کہار اور دیگر تحصیلوں کے ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔








