حکومت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کیلئے متعلقہ برادریوں کے نمائندگان کے ساتھ مشاورت سے قانونی و پالیسی امور پر کام جاری رکھے گی، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے متعلقہ برادریوں کے نمائندگان کے ساتھ مشاورت سے قانونی و پالیسی امور پر کام جاری رکھے گی۔انہوں نے یہ بات نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن برائے اقلیتی حقوق کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔

اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے متعلقہ برادریوں کے نمائندگان کے ساتھ مشاورت سے قانونی و پالیسی امور پر کام جاری رکھے گی۔انہوں نے یہ بات نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن برائے اقلیتی حقوق کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔

ملاقات میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، کرسچن میرج اینڈ ڈیوورس بل، کرسچن پرسنل لاء اور اقلیتی برادریوں کو درپیش مختلف قانونی و پالیسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ منگل کو وزارت انسانی حقوق سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وفد نے کرسچن میرج اینڈ ڈیوورس بل کے مسودے پر پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا اور مسیحی برادری بالخصوص خواتین کے شادی و طلاق سے متعلق قانونی حقوق کے حوالے سے موثر قانونی فریم ورک کی ضرورت اجاگر کی۔وفاقی وزیر نے اس معاملے پر تعاون اور معاونت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ مسیحی پرسنل لاء سے متعلق امور پر اقلیتی برادری کے نمائندگان کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔

ملاقات میں اقلیتوں کے لیے تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں میں مساوی مواقع یقینی بنانے کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا جبکہ اقلیتی برادریوں کو درپیش امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔وفد کی جانب سے ذات کی بنیاد پر امتیاز کے تدارک کے لیے موثر قانونی اقدامات کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی۔سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے وفد کو نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز رائٹس کے قیام سے متعلق قانون سازی اور اس کے قیام کی جانب جاری پیش رفت سے آگاہ کیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے متعلقہ برادریوں سے مشاورت ضروری ہے اور وفد کی سفارشات کا قانونی و پالیسی تناظر میں جائزہ لیا جائے گا۔ ملاقات کے اختتام پر وفد نے اپنے مزید مسائل اور سفارشات تحریری طور پر وزارت انسانی حقوق کو پیش کرنے کی خواہش کا اظہار کیا جبکہ اقلیتی برادری کے مسائل کے حل کے لیے مشاورتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

مزید خبریں