پاکستان نے کم وقت اور محدود وسائل میں ورچوئل اثاثوں کے لیے مکمل ریگولیٹری نظام قائم کرکے نمایاں عالمی پیش رفت کی ہے۔، بلال بن ثاقب

پاکستان نے کم وقت اور محدود وسائل میں ورچوئل اثاثوں کے لیے مکمل ریگولیٹری نظام قائم کرکے نمایاں عالمی پیش رفت کی ہے۔، بلال بن ثاقب

اسلام آباد۔29اگست (اے پی پی):وزیر مملکت و چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پیوارا) بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ پاکستان نے کم وقت اور محدود وسائل میں ورچوئل ایسٹس کے شعبے کے لیے ایک مکمل ریگولیٹری نظام قائم کرکے عالمی سطح پر نمایاں پیش رفت کی ہے، ۔ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی سے جاری بیان کے مطابق بلال بن ثاقب کی قیادت میں پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیشن میں عالمی صفِ اول کی جانب گامزن ہے،بٹ کوائن ایشیا ہانگ کانگ میں وزیر مملکت و چیئرمین پیوارابلال بن ثاقب کا خطاب بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا ہواہے۔

بٹ کوائن ایشیا ہانگ کانگ میں پاکستان کے تیز رفتار اور کم لاگت گورننس ماڈل کو عالمی پذیرائی ہو رہی ہے ،پاکستان نے کم وقت اور محدود وسائل میں ڈیجیٹل اثاثہ جات کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کرلی جس کے عالمی میڈیا میں چرچے ہیں۔بٹ کوائن ایشیا ہانگ کانگ میں خطاب کرتےہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان نے 6 ماہ سے بھی کم عرصے میں ورچوئل ایسٹس کا مکمل ریگولیٹری نظام قائم کر لیا ہے۔ پاکستان نے ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری نظام کی تکمیل پر منظور شدہ بجٹ کا صرف 8 فیصد خرچ کیا۔

ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی نے منظور شدہ بجٹ کا 92 فیصد قومی خزانے میں واپس جمع کرا دیا۔ بلال بن ثاقب نے کہاکہ پاکستان میں ڈیجیٹل ایسٹس کمپنیوں کے لیے باضابطہ ریگولیٹری راستہ قائم کر دیا گیا۔ ایکسچینج، کسٹڈی، بروکریج اور ایسٹ مینجمنٹ سمیت مختلف ورچوئل ایسٹس سرگرمیاں ریگولیٹری فریم ورک میں شامل۔ ورچوئل ایسٹس ریگولیشن میں اے ایم ایل، سی ایف ٹی، صارفین کے اثاثوں کے تحفظ اور سائبر سکیورٹی کے تقاضے شامل ہیں۔

انہوں نے کہاکہ حکومت کی کامیابی کا پیمانہ اخراجات نہیں، نتائج ہونے چاہئیں۔ رفتار بغیر ساخت کے خطرناک، ساخت بغیر رفتار کے بے معنی ہو سکتی ہے۔ بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان نے بڑی بیوروکریسی کے بجائے چھوٹی ٹیموں اور ٹیکنالوجی پر مبنی طریقہ کار اپنایا ہے۔ ٹیکنالوجی مشینی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے، حکومت کو بھی تیزی سے آگے بڑھنا ہوگا۔ پاکستان مستقبل میں ٹوکنائزڈ مارکیٹس، پروگرام ایبل ادائیگیوں اور اسٹیبل کوائنز پر توجہ دے گا۔انہوں نے پاکستان میں مستقبل کی ایجنٹک ادائیگیوں اور ایجنٹک معیشت کے لیے ریگولیشن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان اب فرنٹیئر ٹیکنالوجیز کے ساتھ چلنے کے بجائے ان کے طریقِ حکمرانی میں قیادت کر رہا ہے۔