ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا ایسوسی ایشن آف پبلک اینڈ لینڈ گرانٹ یونیورسٹیز (اے پی ایل یو ) کے مرکزی دفتر کا دورہ

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا ایسوسی ایشن آف پبلک اینڈ لینڈ گرانٹ یونیورسٹیز (اے پی ایل یو ) کے مرکزی دفتر کا دورہ

واشنگٹن ڈی سی۔29اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مستحق پاکستانی طلبہ کیلئے بین الاقوامی سطح پر اعلیٰ تعلیمی مواقع کو وسعت دینے کی حکومتی کوششوں کے سلسلے میں ایسوسی ایشن آف پبلک اینڈ لینڈ گرانٹ یونیورسٹیز (اے پی ایل یو ) کے واشنگٹن ڈی سی میں قائم مرکزی دفتر کا دورہ کیا اور ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد کی قیادت کی۔ پاکستانی وفد نےاے پی ایل یو کی صدر ڈاکٹر وادید کروزادو اور اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی جس میں پاکستان فنڈ فار ایجوکیشن (پی ایف ای) / پاکستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (پاک۔ ای ای ایف) کےتحت باصلاحیت اور مستحق پاکستانی طلبہ، خصوصاً پسماندہ اور کم سہولیات رکھنے والے علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کیلئے امریکہ کی ممتاز جامعات میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع پیدا کرنے کے اقدام کو آگے بڑھانے پر تبادلۂ خیال کیا۔

اے پی ایل یو 250 سے زائد سرکاری تحقیقی جامعات اور لینڈ گرانٹ اداروں کی نمائندگی کرتی ہے، جن میں مجموعی طور پر 50 لاکھ سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔اے پی ایل یو کے ساتھ مجوزہ کنسورشیم سطح کی شراکت داری پاکستان کو امریکہ کی متعدد ممتاز سرکاری جامعات کے ساتھ ایک منظم اور قابلِ توسیع تعلیمی رابطہ کاری کا راستہ فراہم کرے گی، جس کے ذریعے ہر ادارے کے ساتھ الگ الگ معاہدے کرنے کی ضرورت کم ہو سکے گی۔ہفتہ کو وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستانی وفد میں وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ، پاک۔ای ای ایف کی چیف ایگزیکٹو آفیسر سیدہ ہاجرہ سہیل، چیف انٹرنل آڈیٹر فیصل شہزاد اور امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے کے نمائندے بلال ریاض شامل تھے۔

وفد کا استقبال اے پی ایل یو کی صدر ڈاکٹر وادید کروزادو اور حکومتی امور کے سینئر نائب صدر کریگ لنڈوارم نے کیا۔ملاقات کے دوران ڈاکٹر وادید کروزادو نے پاکستانی وفد کو اے پی ایل یو کے ڈھانچے، رکنیت اور امریکی اعلیٰ تعلیمی شعبے میں اس کے وسیع نیٹ ورک کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ اے پی ایل یو کی رکن جامعات زراعت، انجینئرنگ، ایس ٹی ای ایم ، پبلک ہیلتھ اور دیگر اہم شعبوں میں نمایاں مہارت رکھتی ہیں، جو پاکستان کی قومی تعلیمی اور ترقیاتی ترجیحات سے مطابقت رکھتے ہیں۔اے پی ایل یو کی قیادت نے ادارے کے منفرد کنسورشیم اور رابطہ کاری کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اے پی ایل یو کے ساتھ کنسورشیم سطح کا تعاون متعدد جامعات میں بین الاقوامی طلبہ کیلئے معیاری اور منظم تعلیمی راستے پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔مجوزہ شراکت داری کا فریم ورک پیش کرتے ہوئے پاک۔ای ای ایف کی چیف ایگزیکٹو آفیسر سیدہ ہاجرہ سہیل نے اس اقدام کے تین بنیادی ستون پیش کیے۔

پہلا ستون مستحق طلبہ کیلئے مساوی تعلیمی مواقع کی فراہمی پر مبنی ہے۔ پاک۔ای ای ایف کا مقصد پاکستان کے پسماندہ اور کم سہولیات رکھنے والے علاقوں سے تعلق رکھنے والے غیر معمولی تعلیمی صلاحیت کے حامل طلبہ کیلئے ایک پائیدار نظام قائم کرنا ہے، جن کا انتخاب ایک شفاف اور سخت میرٹ پر مبنی قومی عمل کے ذریعے کیا جائے گا۔دوسرے ستون کے تحت دوطرفہ شراکت داری کا فریم ورک تجویز کیا گیا ہےجس کے مطابق اے پی ایل یو کی شریک جامعات پاک۔ای ای ایف کے تحت آنے والے طلبہ کو جزوی یا مکمل ٹیوشن فیس معافی فراہم کر سکتی ہیں، جبکہ پاک۔ای ای ایف باقی مالی ضروریات پوری کرنے کیلئے فی طالب علم سالانہ 29 ہزار امریکی ڈالر تک اسکالرشپ معاونت فراہم کر سکے گا۔

تیسرا ستون ورچوئل آؤٹ ریچ پلیٹ فارم پر مشتمل ہے۔ پاک۔ای ای ایف پاکستان بھر میں 300 سے زائد جامعات اور اداروں کے اپنے نیٹ ورک کے ذریعے پاکستانی طلبہ اور اے پی ایل یو کی رکن جامعات کےدرمیان آن لائن رابطہ کاری اور تعارفی سیشنز کا انعقاد کرے گا۔ ان سیشنز کے ذریعے طلبہ کو تعلیمی پروگرامز، داخلہ کے تقاضوں اور دستیاب اسکالرشپ مواقع سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں گی۔مجوزہ پروگرام کے تحت ابتدائی طور پر سات قومی ترجیحی شعبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی، جن میں مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا سائنس،بائیوٹیکنالوجی،ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی، زراعت اور پبلک پالیسی و اکنامکس شامل ہیں۔امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے مجوزہ شراکت داری میں سفارتخانے کے مکمل تعاون کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ سفارتخانہ امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی اور ڈائسپورا نیٹ ورکس کو متحرک کرتے ہوئے اے پی ایل یو کی رکن جامعات میں زیرِ تعلیم پاک۔ای ای ایف اسکالرز کیلئے اضافی فنڈ قائم کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے کیلئے تیار ہے۔سفیر نے بتایا کہ ماضی میں پاکستان اور امریکہ کی مختلف ریاستوں کی جامعات اور کالجز کے درمیان تعلیمی روابط اور انتظامات موجود رہے ہیں۔ تاہم وقت کے ساتھ بعض روابط غیر فعال ہو گئے۔

انہوں نے بالخصوص پسماندہ علاقوں کے باصلاحیت طلبہ کیلئے ان روابط کو دوبارہ فعال اور مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور یقین دلایا کہ سفارتخانہ اے پی ایل یو کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے ایسے تعلیمی روابط کی بحالی اور باضابطہ تشکیل کیلئے سفارتی پل کا کردار ادا کرے گا۔اے پی ایل یو کی قیادت نےپاکستانی وفد کی جانب سے پیش کئے گئے مجوزہ فریم ورک کا مثبت انداز میں خیرمقدم کیا اور پاک۔ای ای ایف کے ساتھ کنسورشیم سطح کی شراکت داری کے امکانات تلاش کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ اعلیٰ تعلیم تک رسائی اور مساوی مواقع کیلئے اے پی ایل یو کےعزم اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے مستحق طلبہ کی معاونت کیلئے پاک۔ای ای ایف کے مشن کو مستقبل کے تعاون کیلئے مضبوط بنیاد قرار دیا گیا۔

اے پی ایل یو نے اپنی رکن جامعات، کالجز اور شراکت دار اداروں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی، خصوصاً ان اداروں کے بارے میں جو بین الاقوامی تعلیمی پروگرامز اور پاک۔ای ای ایف کے ترجیحی شعبوں میں نمایاں تعلیمی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس اقدام سے ہدفی بنیادوں پر رابطہ کاری اور مستقبل کی ادارہ جاتی شراکت داریوں کے فروغ میں مدد ملے گی۔وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ صلاحیت اور مالی حالات عالمی معیار کی تعلیم کے حصول میں رکاوٹ نہ بنیں۔

انہوں نے کہا کہ اے پی ایل یو کے ساتھ مجوزہ تعاون پاکستان کے سب سے زیادہ مستحق اور باصلاحیت طلبہ کیلئے ایک پائیدار بین الاقوامی تعلیمی راستہ قائم کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ 250 سے زائد سرکاری جامعات میں اے پی ایل یو کا وسیع رابطہ اور اثر و رسوخ وہ پلیٹ فارم ہے جس کی پاکستان کو ضرورت ہے۔ ہم 250 جامعات کے دروازے الگ الگ کھٹکھٹانے نہیں آئے، بلکہ ہم ایسا ایک دروازہ بنانے آئے ہیں جو پاکستان کے سب سے زیادہ مستحق نوجوانوں کیلئے ان تمام مواقع تک رسائی کھول سکے۔ملاقات پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی تعلیمی شراکت داریوں کے فروغ، عالمی معیار کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں توسیع اور ملک کےباصلاحیت و مستحق نوجوانوں میں سرمایہ کاری کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دی گئی۔