بین الاقوامی خارجہ پالیسی کے ماہرین، قانونی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے دی ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت ( پرماننٹ کورٹ آف آربیٹریشن ) کے تاریخی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس میں ثالثی عدالت نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ بدستور مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا پابند ہے جن میں …
تجزیہ کاروں اور پالیسی ماہرین کا سندھ طاس معاہدہ بارے ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم

مزید خبریں
اسلام آباد۔31اگست (اے پی پی):بین الاقوامی خارجہ پالیسی کے ماہرین، قانونی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے دی ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت ( پرماننٹ کورٹ آف آربیٹریشن ) کے تاریخی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس میں ثالثی عدالت نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ بدستور مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا پابند ہے جن میں مغربی دریائوں پر پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔
ثالثی عدالت نے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی بھارت کی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ تزویراتی سہولت کے لئے معاہدے کی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہوا جا سکتا جبکہ نئی دہلی کو متنازعہ رتل پن بجلی منصوبے میں مجاز حدود سے تجاوز کرتے ہوئے پیشرفت کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ سفارتی، قانونی اور میڈیا حلقوں میں ثالثی عدالت کے فیصلے کو پاکستان کے اصولی مؤقف کی توثیق اور یکطرفہ دباؤ کے مقابلے میں بین الاقوامی قانون کے مضبوط دفاع کے طور پر قرار دیا جا رہا ہے۔معروف صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے فیصلے کو ’’پاکستان کی بڑی فتح‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا، بیلجیئم، آسٹریلیا اور اردن کے ججوں پر مشتمل ثالثی عدالت نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ بھارت کے پاس معاہدے کو ختم یا معطل کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں تھا۔
سابق سینیٹر اور تجزیہ کار مشاہد حسین سید نے مستقل ثالثی عدالت کے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ فیصلہ سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر بھارتی غیر قانونی اقدام اور دھونس پر مبنی طرزِ عمل کو مکمل طور پر کالعدم قرار دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ بین الاقوامی قانون اور انصاف کی عظیم اخلاقی، قانونی اور سفارتی فتح ہے جو پاکستان کے اصولی مؤقف کی توثیق کرتی ہے۔معروف صحافی اجمل جامی اور اظہر جاوید نے کہا کہ ثالثی عدالت نے نئی دہلی کی قانونی پوزیشن کو مسترد کرتے ہوئے اس بنیادی بین الاقوامی اصول کو مزید مضبوط کیا ہے کہ معاہدوں کے تحت عائد ذمہ داریوں کی ہر صورت پاسداری کی جانی چاہئے۔سینئر سفارتکار اور سابق وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کرے۔
جلیل عباس جیلانی نے کہاکہ یہ تاریخی فیصلہ اس امر کی توثیق کرتا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ قانونی طور پر پابند ہے اور اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ فیصلے کا احترام کرے، اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور معاہدے کو التوا میں رکھنے کے اپنے فیصلے کو واپس لے، پانی پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہئے۔دی ولسن سینٹر کے پاکستانی فیلو حسن اکبر نے کہا کہ فیصلے کا تفصیلی مطالعہ سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے کے بھارت کے تمام بے بنیاد اور غیر مخلصانہ جواز کو مکمل طور پر ختم کر دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف بھارت کو معاہدے سے مطابقت نہ رکھنے والے منصوبوں کو روکنے کا پابند کرتا ہے بلکہ عالمی برادری کے سامنے بھارت کو ایک ایسی ریاست کے طور پر بھی ظاہر کرتا ہے جو دوطرفہ اور کثیرالجہتی پابند معاہدوں کی پاسداری کرنے میں ناکام رہتی ہے۔
ماہر تعلیم اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہر ڈاکٹر اشتیاق احمد نے پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے اس فیصلے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا نظام پاکستان کی زراعت، توانائی اور غذائی تحفظ کے لیے زندگی کی حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہاکہ نئی دہلی کی جانب سے اس اہم معاہدے کو تزویراتی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش، جس کے ذریعے عملاً ایک ریاست کے خلاف پانی کو ہتھیار بنایا جا رہا ہے، اخلاقی طور پر ناقابلِ دفاع اور غیر قانونی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ممکنہ طور پر مستقل ثالثی عدالت کے دائرۂ اختیار کو مسترد کرنے کی کوشش کرے گا تاہم ایسے انکار پاکستان کے معاہدے کے تحت حاصل بنیادی حقوق کو ختم نہیں کر سکتے۔
چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی چیئرپرسن سارہ احمد نے بھارت کی جانب سے پیش کئے گئے جواز کو عدالت کی جانب سے جامع طور پر مسترد کئے جانے کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہاکہ عدالت نے متفقہ طور پر بھارت کی جانب سے پیش کی گئی ہر بنیاد بشمول خودمختاری، مبینہ خلاف ورزی، دہشت گردی، حالات میں تبدیلی اور مسلح تنازع کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ پانی کو کبھی بھی ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہئے۔پالیسی ماہر علی کے چشتی نے اس فیصلے کو عالمی سطح پر پاکستان کی تین اہم سفارتی کامیابیوں کا حصہ قرار دیا، جن میں پاکستان کی جانب سے شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی سنبھالنا اور مکہ دفاعی اتحاد کے سیکرٹریٹ کی قیادت حاصل کرنا بھی شامل ہے۔








