پاکستان کے وسیع سمندری وسائل کو معاشی طاقت میں تبدیل کرنے کی جانب اہم پیش رفت، وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت بحری شعبے میں خود انحصاری کے لیے جامع اقدامات جاری ہیں۔
پاکستان کے بحری شعبے میں خود انحصاری کی جانب اہم پیش رفت

مزید خبریں
اسلام آباد۔1ستمبر (اے پی پی):پاکستان کے وسیع سمندری وسائل کو معاشی طاقت میں تبدیل کرنے کی جانب اہم پیش رفت، وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت بحری شعبے میں خود انحصاری کے لیے جامع اقدامات جاری ہیں۔
100 ارب ڈالر سے زائد کی بلیو اکانومی کی صلاحیت رکھنے والے پاکستان میں بندرگاہوں، شپنگ، شپ بلڈنگ، لاجسٹکس اور ماہی گیری کے شعبوں میں اصلاحات کے ذریعے غیر ملکی انحصار کم کرنے اور قومی بحری صنعت کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت پاکستان کے بحری شعبے میں خود انحصاری کے لیے اصلاحات کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر بلیو اکانومی کی استعداد سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے بحری شعبے میں جامع اصلاحات پر کام جاری ہے۔
پاکستان کے وسیع سمندری وسائل میں 100 ارب ڈالر سے زائد کی بلیو اکانومی کی صلاحیت موجود ہے، تاہم ماضی میں ملک اپنے بحری وسائل اور قومی بحری اثاثوں سے مطلوبہ معاشی فوائد حاصل نہیں کر سکا۔ملکی کارگو کی بڑی مقدار غیر ملکی جہازوں کے ذریعے منتقل ہونے کے باعث قومی شپنگ انڈسٹری کو نقصان پہنچا، جبکہ بندرگاہوں کی ڈریجنگ، ماہی گیری کی کشتیوں کی تیاری اور دیگر بحری خدمات میں بھی غیر ملکی کمپنیوں پر انحصار برقرار رہا۔بحری شعبے میں بیرونی انحصار کے نتیجے میں پاکستان کو اربوں ڈالر کے معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ قومی کارگو کی نقل و حمل میں پاکستانی شپنگ انڈسٹری کا حصہ محض 11 فیصد رہا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی قائم کردہ ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت دسمبر 2024 میں 99 نکاتی بحری روڈ میپ پیش کیا گیا، جس کا مقصد پاکستان کے بحری شعبے کو جدید، مسابقتی اور خود انحصار بنانا ہے۔روڈ میپ میں بندرگاہوں، شپنگ، لاجسٹکس، شپ بلڈنگ اور ماہی گیری سمیت بحری معیشت کے اہم شعبوں میں اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔حکومت کا مقصد پاکستان کی بلیو اکانومی کی وسیع صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے مقامی شپنگ صنعت کو مضبوط، بحری اثاثوں کو فعال اور غیر ملکی انحصار کم کرنا ہے، تاکہ بحری شعبہ ملکی تجارت، روزگار، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کا مؤثر ذریعہ بن سکے۔








