سیرت طیبہ نوجوانوں کے لیے دنیا و آخرت میں کامیابی کا بہترین راستہ ہے، عطاء اللہ تارڑ

سیرت طیبہ نوجوانوں کے لیے دنیا و آخرت میں کامیابی کا بہترین راستہ ہے، عطاء اللہ تارڑ

اسلام آباد۔3ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ ہمارے لیے اسوہ حسنہ ہے، سیرت طیبہ پر عمل پیرا ہو کر ہم دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ جمعرات کو یہاں اسلام آباد ماڈل کالج برائے خواتین میں قومی رحمت اللعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی کے زیر اہتمام تقریبات ربیع الاول کے سلسلے میں ایک روزہ سیمینار ’’سیرت کا پیغام، نوجوانوں کے نام‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس کا ذکر نہایت شان و عظمت کے ساتھ فرمایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو بے شمار معجزات عطا فرمائے جن میں قرآن مجید بھی ایک عظیم معجزہ ہے، نبی کریم ﷺ وجہ تخلیق کائنات، رحمت اللعالمین اور خاتم النبیین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو تمام انسانوں، تمام کائنات اور تمام عالمین کے لیے رحمت بنا کر بھیجا، اگر ہم مشاہدہ کریں تو غیر مسلموں نے بھی نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس کے حوالے سے تحریریں لکھی ہیں اور اشعار کہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مارٹن لنگز کی کتاب اس کی ایک بہترین مثال ہے جبکہ برصغیر کے ایک سکھ شاعر نے بھی نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں ایسے اشعار کہے جو ہمیشہ کے لیے تاریخ کا حصہ بن گئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس کا جہاں مسلمانوں کے دلوں میں اعلیٰ ترین مقام ہے، وہیں غیر مسلم بھی آپ ﷺ کی شخصیت اور تعلیمات سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے آپ ﷺ کی شان میں اشعار کہے اور تحریریں لکھیں۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ آج ہمیں نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ پر عمل پیرا ہونے کی جتنی ضرورت ہے، شاید اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کے والد گرامی آپ ﷺ کی ولادت باسعادت سے قبل ہی وفات پا گئے تھے جبکہ آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ کے وصال کے وقت آپ ﷺ کی عمر مبارک صرف چھ سال تھی، مگر نبی کریم ﷺ نے نوجوانوں کو والدین کی فرمانبرداری اور احترام کا اہم پیغام دیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت علیؓ سے فرمایا کہ میرے بعد ایک شخص آئے گا جس کا نام اویس قرنی ہوگا، وہ جہاں بھی ملے اس سے دعا کرانا۔ انہوں نے کہا کہ جب حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ نے حج کے موقع پر حضرت اویس قرنیؒ کو تلاش کیا اور وہ ایک مقام پر انہیں مل گئے تو دونوں جلیل القدر صحابہؓ نے ان سے دعا کی درخواست کی۔

انہوں نے کہا کہ حضرت اویس قرنیؒ اس بات پر حیران ہوئے کہ یہ دونوں جلیل القدر صحابہؓ مجھ سے دعا کی درخواست کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت اویس قرنیؒ کی والدہ کی خدمت اور فرمانبرداری کو خصوصی اہمیت دی۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں نوجوانوں کے لیے سب سے اہم پیغام والدین کی فرمانبرداری کا ہے اور یہی کامیابی کا راستہ ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ اگر ہم رواداری اور ہم آہنگی کی بات کریں تو نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے مختلف پہلو، خواہ وہ ایک رہنما، کمانڈر، معلم، والد یا شوہر کی حیثیت سے ہوں، ہمارے لیے بہترین مثال ہیں، اگر ہم اسوہ حسنہ کو صحیح طور پر سمجھنا اور اپنی زندگیوں میں اپنانا شروع کر دیں تو یہی دنیا و آخرت میں کامیابی کا راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ رواداری اور ہم آہنگی کی ایک بہترین مثال ہجرت مدینہ کے موقع پر سامنے آتی ہے، جب مکہ مکرمہ کے مسلمان اپنا گھر بار اور سب کچھ چھوڑ کر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر گئے جبکہ مدینہ منورہ کے لوگوں نے کھلے دل کے ساتھ اپنے گھر، مال اور دیگر وسائل مہاجرین کے لیے پیش کر دیے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی متاثر کن قیادت کے نتیجے میں مہاجرین اور انصار کے درمیان جو اخوت، رواداری اور ہم آہنگی قائم ہوئی، وہ دنیا کے لیے ایک بہترین مثال ہے۔ اس واقعہ میں نوجوانوں کے لیے بھی بہت بڑا سبق موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ باہمی اتحاد و اتفاق کی برکت سے فتح مکہ ممکن ہوئی۔

فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ ایک عظیم الشان لشکر کے ہمراہ مکہ مکرمہ تشریف لائے اور عام معافی کا اعلان فرمایا۔ اس عام معافی میں وہ لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے مسلمانوں پر بڑے بڑے مظالم ڈھائے تھے۔ نبی کریم ﷺ کی جانب سے فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کا اعلان عفو و درگزر اور رحمت کی عظیم مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ طائف کے واقعہ کے بعد جب کفار نے نبی کریم ﷺ پر پتھر برسائے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے فرشتے بھیجے گئے اور عرض کیا گیا کہ اگر آپ ﷺ حکم فرمائیں تو انہیں پہاڑوں کے درمیان نیست و نابود کر دیا جائے تاہم نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے ہدایت کی امید کا اظہار فرمایا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کا یہ طرز عمل صبر، تحمل، عفو و درگزر اور رواداری کا عظیم درس ہے جو آج بھی نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ قرآن کریم نے خواتین کے حقوق کے حوالے سے واضح احکامات دیئے ہیں جو نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت خدیجہؓ تجارت کے شعبے سے وابستہ تھیں اور نبی کریم ﷺ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں ایک رہنما، والد اور شوہر کی حیثیت سے ایسی بہترین مثالیں قائم کیں جنہیں آج بھی اپنی زندگیوں میں اپنایا جائے تو اللہ تعالیٰ کامیابی ہمارے مقدر میں لکھے گا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ نوجوانوں کو ذمہ داریاں سونپنے کے حوالے سے بھی سیرت طیبہ میں بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ حضرت زید بن ثابتؓ نے کم عمری میں وحی کی کتابت کی ذمہ داری انجام دی جبکہ نبی کریم ﷺ نے انہیں اہم ذمہ داریاں سونپیں۔ اسی طرح حضرت اسامہ بن زیدؓ کو کم عمری میں اہم ذمہ داریاں دی گئیں اور انہیں ایک لشکر کی کمان بھی سونپی گئی۔

انہوں نے کہا کہ سیرت طیبہ میں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں جہاں نوجوانوں پر نہ صرف اعتماد کا اظہار کیا گیا بلکہ انہیں اہم ذمہ داریاں بھی سونپی گئیں۔ اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ نوجوانوں کو ذمہ داریاں دینے سے معاشرے میں نئے اور تازہ خیالات کو فروغ ملتا ہے اور نوجوان ان ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے نوجوانوں کو یہ پیغام دیا کہ اعتماد اور ذمہ داری کے ذریعے وہ معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کا صادق اور امین ہونا نوجوانوں کے لیے سب سے اہم سبق ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس میں صداقت اور امانت کی عظیم خوبیاں ودیعت فرمائی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں سوشل میڈیا پر غلط معلومات (مس انفارمیشن) کے چیلنجز درپیش ہیں۔ اگر ہم نبی کریم ﷺ کی صداقت اور امانت کی ان دو صفات کو اپنی زندگیوں میں اپنا لیں تو بہت سے مسائل کا حل ممکن ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی شخصیت میں پائے جانے والے اوصاف حمیدہ پر صحیح معنوں میں عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

اس سے نہ صرف نوجوان نسل کی بہتر تربیت ممکن ہے بلکہ انہیں معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کا بہترین موقع بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے قومی رحمت اللعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی کے قابل قدر کردار کو سراہتے ہوئے وزارتِ اطلاعات و نشریات اور حکومت کی جانب سے یقین دلایا کہ اس سلسلے میں مزید اقدامات کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔ انہوں نے تجویز دی کہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال اور نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس و تعلیمات کو موثر انداز میں اجاگر کرنے کے حوالے سے حکمت عملی مرتب کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت اطلاعات و نشریات اتھارٹی کے ساتھ مل کر اس شعبے میں بھرپور کردار ادا کر سکتی ہے تاکہ سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کو فروغ دیا جا سکے اور جنریشن زی اور جنریشن الفا کو بھی نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس اور آپ ﷺ کی تعلیمات سے روشناس کرایا جا سکے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کو واقعہ معراج کے ذریعے عظیم سعادت عطا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ معراج نبی کریم ﷺ کے عظیم مقام و مرتبے کا ایک منفرد اعزاز ہے اور اس کے مختلف پہلو نوجوان نسل تک موثر انداز میں پہنچائے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان تمام پہلوؤں کو ایک آگاہی مہم کے ذریعے جنریشن زی اور جنریشن الفا تک پہنچایا جا سکتا ہے تاکہ انہیں یہ پیغام دیا جا سکے کہ نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس اور آپ ﷺ کی تعلیمات میں ہر طبقے اور ہر عمر کے لوگوں کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہی کامیابی کا پیغام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خاتم النبیین اور آخری نبی بنا کر دین کو مکمل فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مسلمان پیدا کیا اور ہمیں اس قابل بنایا کہ آج ہم یہاں نبی کریم ﷺ کا ذکرِ مبارک کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے اس شعر کے ساتھ اپنے خطاب کا اختتام کیا:
’’کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں‘‘

مزید خبریں