ڈیجیٹل مائیکرو انشورنس کی سہولت سے کم آمدنی والے طبقہ کو تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے، رپورٹ

ڈیجیٹل مائیکرو انشورنس کی سہولت سے کم آمدنی والے طبقہ کو تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے، رپورٹ

اسلام آباد۔7ستمبر (اے پی پی):ڈیجیٹل مائیکرو انشورنس کی سہولت سے کم آمدنی والے طبقہ کو تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے، لاکھوں پاکستانی میڈیکل ایمرجنسی ، خاندان کے کمانے والے فرد کی اچانک موت، جانوروں کے مرنے، فصل کے تباہ ہونے یا سیلاب وغیرہ کے باعث شدید مالی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ڈیجیٹل مائیکرو انشورنس کی سہولت سے ایسے افراد کی مالی مشکلات میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک کی تقریباً دو تہائی آبادی دیہاتوں یا چھوٹے قصبوں میں رہائش پذیر ہے جہاں پر ان کے وسائل آمدن، زراعت، لائیو سٹاک، یومیہ اجرت اور چھوٹے موٹے کاروبار سے منسلک ہیں۔ ایسے گھرانے اکثر موسمیاتی تبدیلیوں، علاج معالجہ کے بڑھتے اخراجات، غیر یقینی معاشی صورتحال اور قدرتی آفات کا آسان شکار ہو جاتے ہیں۔ ملک کی اکثر آبادی کو انشورنس کے تحت مالی تحفظ حاصل نہیں جس کی وجہ سے معاشی اور سماجی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ آئی جی آئی جنرل انشورنس کے چیف آپریٹنگ آفیسر اور انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے وائس چیئرمین محمد ہشام نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کو ڈیجیٹل مائیکرو انشورنس کی سہولیات کی ضرورت ہے اور اس حوالہ سے بنیادی سہولیات دستیاب ہیں کیونکہ ملک میں تقریباً 200 ملین موبائل فون سبسکرائبر اور 148 ملین موبائل براڈبینڈ صارفین پہلے سے ہی موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ موبائل ایپلی کیشز سے شہری رقوم کی ترسیل ، وصولی اور بلز کی ادائیگی وغیرہ کر رہے ہیں۔ محمد ہشام نے کہا کہ پاکستان کو ڈیجیٹل اکانومی کے فروغ کےلئے روزمرہ کی مالیاتی خدمات کے ساتھ ساتھ صارفین کے مالی تحفظ کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس حوالہ سے جامع حکمت عملی کے تحت ڈیجیٹل مائیکرو انشورنس کی سہولیات کی فراہمی سے دیہی علاقوں اور قصبوں وغیرہ میں رہائش پذیر ملک کی دوتہائی کم آمدنی والی آبادی کو تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ محمد ہشام نے کہا کہ اس سہولت سے کم آمدنی والے کروڑوں گھرانوں کو علاج معالجہ ، گھر کے سربراہ کی اچانک موت، جانوروں کے مرنے، فصلوں کے نقصان یا سیلاب وغیرہ سے پہنچنے والے نقصانات پر قابو پانے میں مدد فراہم کی جاسکتی ہے جس سے ملک میں غربت کی شرح میں کمی کے ساتھ ساتھ دیہی عوام کے معیار زندگی کو بھی بہتر بنایا جاسکتا ہے