ایس ایس جی سی کا 2029 تک سندھ کے پانچ اضلاع کے 261 دیہات کو گیس فراہم کرنے کا منصوبہ

ایس ایس جی سی کا 2029 تک سندھ کے پانچ اضلاع کے 261 دیہات کو گیس فراہم کرنے کا منصوبہ

اسلام آباد۔7ستمبر (اے پی پی):سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) نے مالی سال 29۔2028 تک سندھ کے پانچ اضلاع میں گیس پیدا کرنے والے فیلڈز کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں واقع 261 دیہات اور قصبوں تک گیس کی فراہمی بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق اس اقدام کے پانچویں سے آٹھویں سال/مراحل پر مشتمل عمل درآمد کا منصوبہ مالی سال 26-2025 سے 29-2028تک محیط ہے، جس میں مختلف گیس پیدا کرنے والے فیلڈز سے منسلک سکیمیں شامل ہیں۔پانچواں مرحلہ، جو مالی سال 26۔2025پر مشتمل ہے، مٹیاری، ٹنڈو محمد خان اور سانگھڑ اضلاع میں کوسر، ٹنگری اور گمبٹ ساؤتھ فیلڈز کا احاطہ کرتا ہے۔ اس مرحلے میں 88 دیہات، 179.4 کلومیٹر پائپ لائن نیٹ ورک اور 2,303 ممکنہ صارفین شامل ہیں، جبکہ منصوبے کی مجموعی لاگت 1,449.884 ملین روپے ہے۔ایس ایس جی سی کو مالی سال 26۔2025کے دوران گیس پیدا کرنے والے فیلڈز کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں واقع 88 دیہات کو گیس فراہم کرنے کی تیسرے سال/مرحلے کی سکیموں کے لیے 1,325.520 ملین روپے موصول ہوئے۔

تفصیلی انجینئرنگ سروے مکمل ہو چکے ہیں اور سکیموں کی تیاری جاری ہے۔چھٹا مرحلہ، جو مالی سال 27۔2026کے لیے منصوبہ بند ہے، سانگھڑ اور شکارپور اضلاع میں بوبی اور حسن فیلڈز کا احاطہ کرتا ہے۔ اس کے تحت 46 دیہات، 178.52 کلومیٹر پائپ لائن نیٹ ورک اور 2,710 ممکنہ صارفین کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ منصوبے کی مجموعی لاگت 1,495.075 ملین روپے ہے۔ساتواں مرحلہ، جو مالی سال 28۔2027کے لیے منصوبہ بند ہے، سانگھڑ اور ٹنڈو محمد خان اضلاع میں نعمت باسل، جاکھورو، واریہ اور بخاری فیلڈز کا احاطہ کرتا ہے۔

اس مرحلے کے تحت 171.97 کلومیٹر پائپ لائن نیٹ ورک کے ذریعے 67 دیہات کو گیس فراہم کرنے کا منصوبہ ہے، جس سے 2,281 ممکنہ صارفین مستفید ہوں گے، جبکہ اس کی تخمینی لاگت 1,407.608 ملین روپے ہے۔آٹھواں مرحلہ، جو مالی سال29۔2028کے لیے ہے، سانگھڑ، سجاول اور شکارپور اضلاع میں سانگھڑ ایسٹ (نعمت الباسل)، سجاول اور کونج فیلڈز کا احاطہ کرتا ہے۔ 1,373.395 ملین روپے لاگت کے اس مرحلے میں 60 دیہات، 155.02 کلومیٹر پائپ لائن نیٹ ورک اور 1,620 ممکنہ صارفین شامل ہیں۔مجموعی طور پر چاروں مراحل میں 261 دیہات اور قصبے، 684.91 کلومیٹر پائپ لائن نیٹ ورک اور 8,914 ممکنہ صارفین شامل ہیں۔ ان کی مجموعی منصوبہ جاتی لاگت 5,725.962 ملین روپے ہے، جس میں ایس ایس جی سی کا حصہ 481.356 ملین روپے جبکہ حکومت کے اوور اینڈ ابَو لاگت کے معیار کے تحت 5,244.606 ملین روپے شامل ہیں۔مجموعی لاگت میں حکومت کا حصہ تقریباً 91.6 فیصد جبکہ ایس ایس جی سی کا حصہ تقریباً 8.4 فیصد ہے۔