پاکستان کے معاشی مستقبل کے لئے ڈیجیٹل تبدیلی کلیدی حیثیت رکھتی ہے،شزہ فاطمہ خواجہ

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے معاشی مستقبل کے لئے ڈیجیٹل تبدیلی کلیدی حیثیت رکھتی ہے ،پاکستان کا ماننا ہے کہ 21 ویں صدی ان ابھرتی ہوئی اقوام کی ہے جو دولت کی تخلیق اور اپنے مستقبل کی تشکیل کے لئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال کر سکتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر ’’کوہم نے ڈیجیٹل قوم کیسے …

اسلام آباد۔7ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے معاشی مستقبل کے لئے ڈیجیٹل تبدیلی کلیدی حیثیت رکھتی ہے ،پاکستان کا ماننا ہے کہ 21 ویں صدی ان ابھرتی ہوئی اقوام کی ہے جو دولت کی تخلیق اور اپنے مستقبل کی تشکیل کے لئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال کر سکتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر ’’کوہم نے ڈیجیٹل قوم کیسے تعمیر کی‘‘ کے موضوع پر منعقدہ لیپ 2026 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اوپن سورس ٹیکنالوجی پر اپنا قومی ڈیجیٹل سٹیک تعمیر کر رہا ہے،اس کی تکمیل کے بعد پاکستان اس ڈیجیٹل سٹیک کو ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی اقوام کے ساتھ بلا معاوضہ شیئر کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں دوسرے ممالک کی مدد کرنی چاہئے کہ وہ محض جدیدیت سے آگے بڑھ کر دولت کی تخلیق اور زیادہ سے زیادہ معاشی خودمختاری کی جانب گامزن ہوں۔ شزہ فاطمہ نے کہا کہ پاکستان اب ’’بڑے اور پرکشش (نمائشی) منصوبوں‘‘ کے حصول سے ہٹ کر مضبوط ڈیجیٹل بنیادیں استوار کرنے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران حکومت نے اہم قانون سازی کی ہے جس میں ’’ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ‘‘ اور ’’قومی اے آئی پالیسی‘‘ شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان اقدامات کا مقصد اخلاقی، سکیورٹی اور خودمختاری سے متعلق تحفظات کو یقینی بناتے ہوئے ٹیکنالوجی کے ایکو سسٹم کی معاونت کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ فائبر کنکٹیویٹی اور براڈ بینڈ کے استعمال کو فروغ دینے کے لئے ’’رائٹ آف وے‘‘ اصلاحات بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے ڈیجیٹل دور کے لئے انتہائی مضبوط اور ٹھوس بنیادیں رکھنے کیلئے سخت محنت کی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے اپنی کوششوں کا آغاز سرمایہ کاروں، صنعتکاروں، نوجوانوں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے تحفظات اور آراء کو سن کر کیا۔انہوں نے ڈیجیٹل رابطے کو پہلا بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں قابلِ اعتماد اور تیز رفتار انٹرنیٹ کے بغیر ڈیجیٹل ترقی ناممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ سپیکٹرم کی دستیابی ایک بڑی رکاوٹ رہی ہے اور مزید بتایا کہ پاکستان نے دنیا کی سب سے بڑی سپیکٹرم نیلامی کا انعقاد کیا جس میں 480 میگاہرٹز پیش کئے گئے۔انہوں نے کہا کہ اس نظام کا نفاذ اب زور و شور سے جاری ہے۔ پاکستان نے دو نئی سب میرین کیبلز بھی نصب کی ہیں جبکہ فائبر سے متعلق اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں اور ’’ہاؤس پاسز‘‘ (گھروں تک رسائی کی سہولت) میں تقریباً 100 فیصد اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے پالیسی کے تسلسل کو دوسرا بڑا چیلنج قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے قیام کا سہرا وزیراعظم شہباز شریف کو جاتا ہے، اس کونسل نے پالیسی کے تسلسل کو یقینی بنانے میں مدد کی ہے،اس کونسل کی سربراہی وزیراعظم کرتے ہیں اور انہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تعاون حاصل ہے، اس میں چاروں صوبوں کے سربراہان اور کابینہ کے ارکان بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ کاروباری مسابقت تیسرا بڑا چیلنج ہے خاص طور پر ان ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لئے جنہیں ٹیکس سے متعلق مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے اپنی کمپنیوں کے لئے خصوصی ٹیکنالوجی زونز قائم کئے ہیں جنہیں اگلے 10 سالوں کے لئے ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے نوجوانوں کے لئے بین الاقوامی پیمنٹ گیٹ ویز متعارف کرانے اور خود مختار کمپیوٹنگ نظام کو وسعت دینے پر بھی کام کر رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ وہ دو شعبے ہیں جن میں پاکستان جیسے ملک میں آنے والے کسی بھی سرمایہ کار کے لئے یہاں بہت بڑے مواقع موجود ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی پوری حکومت کی ترجیح بن گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہماری تمام وزارتیں اب سمجھتی ہیں کہ ٹیکنالوجی اب عمودی نہیں ہے بلکہ ایک قابل بنانے والا شعبہ ہے جسے ہر ایک حکمت عملی میں بُنا جانا چاہئے۔تیز رفتار ڈیجیٹل تبدیلی کی ضرورت کی وضاحت کرتے ہوئے شزہ فاطمہ نے کہا کہ معیشتیں عام طور پر ایس -کرو کے ذریعے ترقی کرتی ہیں جو سطح مرتفع تک پہنچنے سے پہلے بتدریج ترقی سے تیزی سے پھیلتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر ممالک کو ترقی کو برقرار رکھنے کے لئے جدت، شراکت داری اور سمارٹ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ دہائیوں کو سالوں میں سمیٹنا چاہتے ہیں اور ایک متنوع معیشت کے ساتھ ایک ترقی یافتہ ملک بننے کے لئے اس ایس -کرو کو تیزی سے عبور کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو ایک ڈیجیٹل قوم بننا چاہئے۔انہوں نے ڈیجیٹل تبدیلی کو حکومت کی جانب سے اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے اور ترقی کی رفتار بڑھانے کے لئے ’’سب سے اہم اقدام‘‘ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک ڈیجیٹل قوم کی بنیاد رکھ دی ہے اور اب تیزی سے اپنا ’’ڈیجیٹل سٹیک‘‘ (ڈیجیٹل نظام کا ڈھانچہ) تشکیل دے رہا ہے۔

انہوں نے پاکستان کو سرمایہ کاری کے لئے دنیا کے بڑے مراکز میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ مستحکم قیادت، ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے اور ایکو سسٹم میں سرمایہ کاری کے ذریعے ڈیجیٹل ترقی کی شرح کو دو ہندسوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی آبادی 24 کروڑ ہے جس میں 15 کروڑ سے زائد افراد کی عمر 30 سال سے کم ہے۔ پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل سے حاصل ہونے والے اسباق کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومتوں کو ان ممالک سے سیکھنا چاہئے جو اس عمل سے گزر چکے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے تجربے سے حاصل ہونے والے پانچ اہم اسباق بیان کئے جس میں پہلا سبق یہ تھا کہ حکومتوں کو سافٹ ویئر نہیں بلکہ قوانین اور پالیسیاں بنانی چاہئیں، حکومت کا کردار ایسے معاون قوانین، پالیسیاں اور ادارے تشکیل دینا ہے جن کے دائرہ کار اور ذمہ داریاں واضح ہوں۔دوسرا سبق پالیسی ساز وزارت اور منصوبوں پر عملدرآمد کرنے والے سرکاری و نجی اداروں کے درمیان ایک ’’ڈیجیٹل گورن ٹیک‘‘ ایجنسی کے قیام کی ضرورت کے بارے میں تھا۔

ایسی ایجنسی کو مطلوبہ عملی ڈھانچہ تیار کرنا چاہئے اور حکومت کے تمام اداروں کے باہمی اشتراک پر مبنی طرزِ عمل کو ممکن بنانا چاہئے،اس ایجنسی کو براہِ راست سربراہِ مملکت کو جوابدہ ہونا چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ’’نیشنل ڈیجیٹل کمیشن‘‘ وزیراعظم کو رپورٹ کرتا ہے۔پاکستان کا ٹارگٹ آپریٹنگ ماڈل’’ڈیجیٹل نیشن ماسٹر پلان‘‘ ہے جو اعتماد اور سکیورٹی پر مبنی باہمی ربط اور اشتراک پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔تیسرا سبق اپنی توجہ مرکوز رکھنے کی اہمیت کے بارے میں تھا۔ شزہ فاطمہ نے عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے نظم و ضبط، قابلِ پیمائش اہداف، کارکردگی کے کلیدی اشاریوں اور باقاعدہ فالو اپ کی ضرورت پر زور دیا۔چوتھا سبق یہ تھا کہ مصنوعات کے بجائے بنیادی ڈھانچہ تعمیر کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کو اس بنیادی ڈھانچے پر مصنوعات تیار کرنے کی اجازت دینے سے پہلے ریاست کو ڈیٹا کے تبادلے، ڈیجیٹل شناخت، ادائیگیوں کے نظام اور دیگر بنیادی سہولیات کا نظام قائم کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا کام انہیں بیک اینڈ، ٹولز، ایمبیڈڈ فنانس اور قابلِ قبول تعمیراتی معیارات فراہم کرنا ہے اور پھر یہ دیکھنا ہے کہ وہ کس طرح کمال دکھاتے ہیں۔انہوں نے مثال کے طور پر ’’وی چیٹ‘‘ کا حوالہ دیا اور بتایا کہ اس کی 97 فیصد ایپلی کیشنز نجی شعبے کی ملکیت ہیں۔پانچواں سبق یہ تھا کہ حکومتیں اور اقوام الگ تھلگ رہ کر کام نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے کہاکہ کوئی بھی قوم تنہا آگے نہیں بڑھ سکتی اور جو اقوام متحد ہو کر کام کرتی ہیں وہ زیادہ ترقی کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان پانچ اسباق نے پاکستان کو اپنی ڈیجیٹل تبدیلی کی بنیادیں اور سٹریٹجک سمت متعین کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔