سردار اویس احمد خان لغاری کا سی ٹی بی سی ایم کے تحت بجلی کے نظام تک براہ راست رسائی حاصل کرنے والے صارفین کیلئے یوز آف سسٹم چارج کے تعین سے متعلق نیپرا کے فیصلے کا خیرمقدم

وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری اور وزارت توانائی (پاور ڈویژن) نے مسابقتی مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) کے تحت بجلی کے نظام تک براہ راست رسائی حاصل کرنے والے صارفین کے لیے یوز آف سسٹم چارج کے تعین سے متعلق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

اسلام آباد۔7ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری اور وزارت توانائی (پاور ڈویژن) نے مسابقتی مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) کے تحت بجلی کے نظام تک براہ راست رسائی حاصل کرنے والے صارفین کے لیے یوز آف سسٹم چارج کے تعین سے متعلق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق وفاقی وزیر نے کہا کہ یوز آف سسٹم چارج کا تعین پاکستان کے بجلی کے شعبے میں اصلاحات اور جدید کاری کا ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ یہ سی ٹی بی سی ایم کے تحت براہ راست رسائی کو عملی شکل دینے کے لیے درکار آخری اہم ریگولیٹری اقدام تھا، جس سے پاکستان کے پہلے سی ٹی بی سی ایم نیلامی کے عمل کے لیے آر ایف پی جاری کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسابقتی بجلی مارکیٹ کا قیام پاور سیکٹر اصلاحات کے وسیع تر ایجنڈے کا اہم حصہ ہے جس کے تحت پاکستان کو روایتی واحد خریدار پر مبنی مارکیٹ سے ایک مسابقتی اور صارف مرکوز بجلی مارکیٹ کی طرف منتقل کرنے کے لیے ضروری ادارہ جاتی، ریگولیٹری، تکنیکی اور مارکیٹ سے متعلق تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد اہل صنعتی صارفین پہلی بار اپنی متعلقہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں سے بجلی خریدنے تک محدود رہنے کی بجائے مسابقتی مارکیٹ کے ذریعے اپنی پسند کے بجلی فراہم کنندگان سے دوطرفہ بنیادوں پر بجلی خرید سکیں گے۔

اویس لغاری نے کہا کہ مسابقتی مارکیٹ کے فوائد صنعتی صارفین تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ عام صارفین کو بھی فائدہ پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بجلی کی خریداری میں مسابقت زیادہ موثر پیداوار، موجودہ پاور پلانٹس کے بہتر استعمال، بہتر قیمت اور قابل اعتماد بجلی کی فراہمی اور بجلی کی ویلیو چین میں موجود نا اہلیوں میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسابقتی مارکیٹ قابل تجدید توانائی، بیٹری انرجی سٹوریج اور دیگر لچکدار توانائی وسائل کی شمولیت کو بھی فروغ دے گی جس سے مقامی اور کم لاگت توانائی وسائل کے بہتر استعمال، نظام کی قابلِ اعتماد کارکردگی میں بہتری اور مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار میں کمی میں مدد ملے گی۔

وفاقی وزیر نے نیپرا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یوز آف سسٹم چارج کا فیصلہ براہ راست رسائی کے لیے ضروری ریگولیٹری فریم ورک فراہم کرتا ہے اور وزارت توانائی، نیپرا اور دیگر متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی مربوط کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے سی ٹی بی سی ایم نیلامی کے عمل کا آغاز محض ایک ریگولیٹری یا بجلی کی خریداری سے متعلق سنگ میل نہیں بلکہ پاکستان کی بجلی مارکیٹ میں ایک اہم ساختی تبدیلی کی نمائندگی کرے گا اور ملک کو زیادہ مسابقتی اور صارف مرکوز پاور سیکٹر کی جانب لے جائے گا۔

وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ وزارت توانائی (پاور ڈویژن) باقی ماندہ تقاضوں کی تکمیل اور مسابقتی بجلی مارکیٹ کو شفاف، موثر اور منظم انداز میں عملی شکل دینے کے لیے پرعزم ہے تاکہ اہل صارفین کو بجلی کے انتخاب کے زیادہ مواقع ملیں اور بالآخر پاکستان کے تمام صارفین کے لیے زیادہ موثر اور پائیدار بجلی نظام تشکیل دیا جا سکے۔