استعفا اور ریٹائرمنٹ ایک دوسرے کا متبادل نہیں، سروس ٹریبونل استعفاکو ریٹائرمنٹ میں تبدیل نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ استعفا اور ریٹائرمنٹ ملازمت ختم کرنے کے دو الگ قانونی طریقے ہیں، سروس ٹریبونل واضح قانونی اختیار کے بغیر کسی ملازم کے استعفا کو ریٹائرمنٹ میں تبدیل کرکے پنشن کے فوائد نہیں دے سکتا۔جسٹس شکیل احمد اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دائر سول پٹیشن نمبر 50-P/2022 پر تفصیلی فیصلہ …

اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ استعفا اور ریٹائرمنٹ ملازمت ختم کرنے کے دو الگ قانونی طریقے ہیں، سروس ٹریبونل واضح قانونی اختیار کے بغیر کسی ملازم کے استعفا کو ریٹائرمنٹ میں تبدیل کرکے پنشن کے فوائد نہیں دے سکتا۔جسٹس شکیل احمد اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دائر سول پٹیشن نمبر 50-P/2022 پر تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے خیبر پختونخوا سروس ٹریبونل پشاور کا 7 دسمبر 2021 کا فیصلہ جزوی طور پر کالعدم قرار دے دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ کسی ملازم کا استعفا اس وقت تک مؤثر نہیں سمجھا جا سکتا جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ استعفا رضاکارانہ طور پر دیا گیا، ملازم اس کے مندرجات اور قانونی نتائج سے آگاہ تھا اور استعفا کسی دباؤ، دھوکے یا غلط بیانی کے نتیجے میں نہیں دیا گیا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر استعفا قانونی طور پر باطل قرار پائے تو ملازم کو قانون کی نظر میں اس وقت تک ملازمت میں برقرار تصور کیا جائے گا جب تک اس کی سروس ریٹائرمنٹ، برطرفی یا ملازمت ختم کرنے کے کسی دوسرے قانونی طریقے سے ختم نہ ہو۔

عدالت نے واضح کیا کہ صرف مطلوبہ مدتِ ملازمت مکمل کرلینا کسی ملازم کو ازخود ریٹائرڈ قرار دینے کے لئے کافی نہیں۔ اسی طرح ایک باطل استعفا کو محض پنشن کے فوائد فراہم کرنے کے لئے ریٹائرمنٹ میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ سروس ٹریبونل کے اختیارات قانون کے تحت متعین ہیں اور وہ واضح قانونی اختیار کے بغیر استعفا کو ریٹائرمنٹ میں تبدیل کرکے پنشن کا حق نہیں دے سکتا۔ عدالت نے سروس ٹریبونل کا وہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا جس کے ذریعے خاتون ملازم کے استعفاکو ریٹائرمنٹ میں تبدیل کیا گیا تھا تاہم استعفا کو غیر قانونی قرار دینے سے متعلق ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھا۔

سپریم کورٹ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ خاتون ملازم کو مبینہ استعفا کی تاریخ سے ملازمت میں برقرار تصور کرتے ہوئے قانون کے مطابق متعلقہ سروس فوائد فراہم کئے جائیں۔عدالت نے قرار دیا کہ خاتون اپنی خراب صحت کی بنیاد پر پنشن کے حصول کے لئے قانون کے مطابق مناسب داد رسی حاصل کرنے کے لئے آزاد ہیں۔

مزید خبریں