شرح خواندگی میں بہتری کیلئے اجتماعی قومی جدوجہد ناگزیر ہے، خالد مقبول صدیقی

وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان میں شرح خواندگی کا کم ہونا ایک سنگین قومی مسئلہ اور بڑا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کیلئے حکومت، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر اجتماعی قومی جدوجہد کرنا ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں عالمی یوم خواندگی …

اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان میں شرح خواندگی کا کم ہونا ایک سنگین قومی مسئلہ اور بڑا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کیلئے حکومت، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر اجتماعی قومی جدوجہد کرنا ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں عالمی یوم خواندگی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 80 برس سے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں تعلیم و خواندگی کے فروغ کیلئے مختلف سطحوں پر کوششیں جاری ہیں تاہم مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے، اس لئے اب روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر نئے، موثر اور قابل عمل راستے اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں موجود مساجد کے وسیع نیٹ ورک کو بھی تعلیم اور خواندگی کے فروغ کیلئے موثر انداز میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگر مقامی سطح پر علماء، کمیونٹی اور متعلقہ اداروں کے اشتراک سے ظہر تک کے اوقات میں مساجد کو مختصر دورانیے کے تعلیمی و خواندگی مراکز کے طور پر استعمال کیا جائے تو بڑی تعداد میں بچوں، نوجوانوں اور ناخواندہ افراد کو بنیادی تعلیم کی سہولت فراہم کی جاسکتی ہے۔

تقریب کے دوران ’’ہر شخص ایک فرد کو پڑھائیں‘‘ کے عنوان سے موبائل ایپ بھی لانچ کی گئی۔ ایپ کا مقصد خواندگی کے فروغ کی قومی مہم کو موثر بنانا اور طلبہ سمیت معاشرے کے مختلف طبقات کو کم از کم ایک ناخواندہ فرد کو پڑھانے کی ترغیب دینا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ (این سی ایچ ڈی) کے چیئرمین صادق افتخار نے کہا کہ ملک میں خواندگی کے فروغ کیلئے مربوط اور نتیجہ خیز اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ این سی ایچ ڈی تعلیم و خواندگی کے فروغ کیلئے کمیونٹی کی سطح پر کام کر رہا ہے، بالخصوص ایسے علاقوں پر توجہ دی جا رہی ہے جہاں تعلیمی سہولیات محدود ہیں۔

این سی ایچ ڈی کے ڈائریکٹر جنرل علی اصغر نے کہا کہ خواندگی کے فروغ کیلئے مقامی برادریوں کو اس عمل کا فعال حصہ بنانا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب خواندگی پروگرام وہی ہوسکتے ہیں جو مقامی ضروریات، دستیاب وسائل اور کمیونٹی کی شمولیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیے جائیں۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ اگر نیت پختہ ہو تو محدود وسائل کے باوجود علم کی روشنی ہر فرد تک پہنچائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ان طبقات تک تعلیم پہنچانے کیلئے اپنا کردار ادا کر رہی ہے جو جغرافیائی، معاشی یا دیگر وجوہات کی بناء پر روایتی تعلیمی اداروں تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔

بلوچستان کی صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ درانی نے کہا کہ بلوچستان میں تعلیمی اور خواندگی کے چیلنجز کی نوعیت دیگر علاقوں سے مختلف ہے جہاں جغرافیائی دشواریاں، دور دراز آبادیاں اور تعلیمی سہولیات کی کمی اہم مسائل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں خواندگی کے فروغ کیلئے وفاقی و صوبائی حکومتوں، مقامی کمیونٹیز اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان موثر تعاون ناگزیر ہے۔ تقریب سے یونیسکو کے نمائندے فواد پاشایف، یونیسف کی نمائندہ ڈاکٹر شرمیلا رسول، جائیکا کے نمائندے محمد بلال عزیز، وزارت تعلیم کی ایجوکیشن سپیشلسٹ ثناء عیسیٰ اور وزارت منصوبہ بندی و ترقی و خصوصی اقدامات کی نمائندہ آمنہ کمال نے بھی خطاب کیا۔

 

مزید خبریں