پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کے زیر اہتمام پاکستان میں موسمیاتی مالیات کے موجودہ منظرنامے اور اسے منتشر اور غیر مربوط طریقہ کار سے نکال کر مربوط، پائیدار اور قومی ملکیت کے حامل نظام میں تبدیل کرنے کے امکانات پر غور کے حوالہ سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔
پائیڈ کے زیر اہتمام پاکستان میں موسمیاتی مالیات کے حوالہ سے سیمینارکاانعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کے زیر اہتمام پاکستان میں موسمیاتی مالیات کے موجودہ منظرنامے اور اسے منتشر اور غیر مربوط طریقہ کار سے نکال کر مربوط، پائیدار اور قومی ملکیت کے حامل نظام میں تبدیل کرنے کے امکانات پر غور کے حوالہ سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی کے ممبر فنانس ڈاکٹر محمد رفیق نے کہا کہ نیشنل کلائمیٹ فنانس سٹرٹیجی کا بنیادی مقصد موسمیاتی فنانسنگ کے لئے مربوط اور قومی سطح پر ملکیت رکھنے والا نظام تشکیل دینا ہے جس کے ذریعے موسمیاتی اقدامات کے لئے مالی وسائل کو متحرک اور بڑے پیمانے پر وسعت دی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے نمٹنے کے لئے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جس کے لئے موثر منصوبہ بندی، مضبوط منصوبوں اور ملکی و غیر ملکی مالی وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لانا ناگزیر ہے۔ سیمینار کے دوران موسمیاتی سرمایہ کاری کی ضروریات، قابلِ عمل منصوبوں کی تیاری، ملکی وسائل کو متحرک کرنے، نجی شعبے کی شمولیت اور موسمیاتی فنانسنگ کے لئے موثر قومی فریم ورک کی تشکیل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان میں موسمیاتی فنانسنگ کو موثر بنانے کے لئے سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ نجی شعبے اور دیگر متعلقہ شراکت داروں کے درمیان بہتر رابطہ اور تعاون ضروری ہے تاکہ دستیاب وسائل کو ترجیحی بنیادوں پر ایسے منصوبوں کے لیے استعمال کیا جا سکے جو موسمیاتی خطرات سے نمٹنے اور پائیدار ترقی میں معاون ثابت ہوں۔ سیمینار کی نظامت کے فرائض پائیڈ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد فیصل علی نے اداکئے۔







