وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو ورکنگ ویمن انڈومنٹ فنڈ کو فعال کرنے کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ حکومت ڈے کیئر سہولیات میں توسیع اور کام کی جگہوں کو خواتین کے لئے زیادہ سازگار بنانے کے اقدامات پر بھی پیشرفت کر رہی ہے۔
ورکنگ ویمن انڈومنٹ فنڈ فعال کرنے کا عمل تیز کرنے کی ہدایت، 2 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

مزید خبریں
اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو ورکنگ ویمن انڈومنٹ فنڈ کو فعال کرنے کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ حکومت ڈے کیئر سہولیات میں توسیع اور کام کی جگہوں کو خواتین کے لئے زیادہ سازگار بنانے کے اقدامات پر بھی پیشرفت کر رہی ہے۔ پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی برائے صنفی شمولیت کے فیصلوں پر عملدرآمد سے متعلق ایک دستاویز کے مطابق مجوزہ انڈومنٹ فنڈ کے لئے 2 ارب روپے کا ابتدائی فنڈ مختص کیا جائے گا۔ اس کا مقصد ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والی ایسی ملازمت پیشہ خواتین کو اسلام آباد میں کرائے پر رہائش حاصل کرنے کی صورت میں کرائے کے اخراجات کا ایک حصہ واپس ادا کرنا ہے
وزارت کو 50 کروڑ روپے کی ناقابل تنسیخ گرانٹ کی قومی فلاحی تنظیموں، غیر سرکاری اور کمیونٹی پر مبنی تنظیموں اور سرکاری شعبے کے اداروں کے ذریعے تقسیم یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس جینڈر ویمن ایمپاورمنٹ پیکیج 2024 کے تحت متعلقہ وزیراعظم ہدایات پر عملدرآمد کی مرکزی ذمہ دار ایجنسی ہے۔ وزارت خزانہ، وزارت منصوبہ بندی اور وزارت انسانی حقوق کو بھی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔رہائشی معاونت کے ساتھ ساتھ حکومت ملازمت پیشہ خواتین کے لئے بچوں کی نگہداشت کی سہولیات کو مضبوط بنانے کے منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے۔ملازمت پیشہ خواتین کی معاونت اور کام کی جگہوں کو خواتین کے لئے زیادہ سازگار بنانے کے لئے قومی سطح پر ڈے کیئر فنڈ قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وزارت انسانی حقوق اس اقدام کی مرکزی ذمہ دار ایجنسی ہے جبکہ وزارت خزانہ، وزارت منصوبہ بندی اور قومی کمیشن برائے وقار نسواں اس کی معاونت کریں گے۔ڈیپارٹمنٹل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے 7 اپریل 2025 کو ’’اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں ڈے کیئر مراکز کا قیام‘‘ کے عنوان سے 70 کروڑ روپے کی ابتدائی لاگت کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔ بعد ازاں پی ایس ڈی پی 2026-27 کے لیے منصوبے کی لاگت بڑھا کر 804.743 ملین روپے کر دی گئی۔ اس منصوبے کو ’’ہیومن رائٹس اینڈ ویمن ڈویلپمنٹ انیشی ایٹوز‘‘ کے عنوان سے ایک جامع پی سی-I کا مرکزی جزو بھی بنایا گیا ہے۔
یہ جامع پی سی-I اس وقت سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی سے قبل کے مرحلے میں ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ کابینہ ڈویژن نے ملازمت پیشہ خواتین کی سہولت کے لئے سرکاری شعبے کے اداروں میں ڈے کیئر مراکز کے قیام میں معاونت کی ہے۔وزیراعظم کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے پاکستان سیکرٹریٹ میں ایک فلیگ شپ ڈے کیئر مرکز قائم کیا گیا ہے، جسے ملازمین کو بچوں کی نگہداشت کی خدمات فراہم کرنے کے لئے ایک ماڈل سہولت کے طور پر قائم کیا گیا ہے۔وزیراعظم کی ہدایت کے تحت تمام سرکاری شعبے کے اداروں میں ڈے کیئر مراکز قائم کئے جانے ہیں۔ اس ہدایت پر عملدرآمد کی مرکزی ذمہ داری کابینہ ڈویژن کے پاس ہے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزارت انسانی حقوق اس کی معاونت کر رہے ہیں۔








